اسلام آباد : سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ نے ڈی جی اے این ایف کو طلب کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ دی جائے انمول عرف پنکی کی جانب سے کن بیورو کریٹ یا پارلیمنٹیرینز کو منشیات سپلائی کی جارہی تھی۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ملک کی سب سے بڑی مبینہ کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کے کیس میں سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس فورس کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم نے واضح کیا کہ اے این ایف سے ان تمام افراد کی فہرست طلب کر لی گئی ہے جنہیں انمول عرف پنکی منشیات سپلائی کر رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ "ہمیں مکمل رپورٹ دی جائے کہ کن بیوروکریٹس، ججز یا پارلیمنٹیرینز کو منشیات فراہم کی جا رہی تھیں، میں یہ یقینی بناؤں گا کہ جن بااثر افراد نے منشیات خریدی، انہیں جیل کے ساتھ ساتھ بحالی مراکز بھی بھیجا جائے۔”
اجلاس کے دوران ملزمہ کو عدالت میں ملنے والے مبینہ وی آئی پی پروٹوکول پر بھی سوالات اٹھائے گئے، سینیٹر ثمینہ زہری نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے خبروں میں دیکھا وہ کرمنل خاتون دھڑلے سے بغیر ہتھکڑی کے عدالت جا رہی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "یہ منشیات فروش اور چور ڈاکو کھلے عام گھوم رہے ہیں، کیا ہم یہاں صرف مرنے کے لیے بیٹھے ہیں؟”
اے این ایف کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ اجلاس میں ملزمہ کے نیٹ ورک، سپلائی چین اور خریداروں کی مکمل تفصیلات دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ پیش کرے۔
کمیٹی نے اعادہ کیا کہ منشیات کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے کسی بھی بااثر شخصیت کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
سینیٹر فیصل سلیم نے زور دیا کہ سپلائی لینے والے افراد کی شناخت کر کے انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے لیے بحالی کے عمل سے گزارا جائے گا۔
سینیٹ کمیٹی نے وزارتِ داخلہ کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل کیس کی شفاف تحقیقات میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


