The news is by your side.

Advertisement

‘سربراہان مملکت کو آم کا تحفہ بھیجنا، پاکستانی آم کی مارکیٹ بڑھانے کےلیے ہے’

لاہور : صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ چینی کی پیداوار کیلئے گنے کے بجائے چقندرکی کاشت بھی کی جاسکتی ہے، ہمیں زرعی اجناس کے بجائے ان سے بنی منافع بخش مصنوعات برآمد کرنی چاہئے۔

ان خیالات کا اظہار سربراہ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے لاہور میں ایوان صںعت و تجارت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ان کا کہنا تھا کہ ہماری زیادہ تر برآمدات زرعی اجناس کے گرد گھومتی ہیں، چینی کی پیداوار کیلئے گنے کے بجائے چقندر کی کاشت بھی کی جاسکتی ہے۔

عارف علوی کا کہنا تھا کہ کھیتوں کو پانی دینے کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، کھیتوں کو پانی دینے کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ ہمیں زرعی اجناس کے بجائے ان سے بنی منافع بخش مصنوعات برآمد کرنی چاہئے، خوشی ہے پاکستان میں زیتون کی کاشت بھرپور طریقے سے جاری ہے، روایتی فصلوں کے بجائے منافع بخش، کم پانی سے پیدا فصلوں پر توجہ دینی چاہیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی صنعتوں میں بھی منافع بخش اشیاء کی تیاری پر توجہ دینی چاہیئے، موجودہ حالات میں ملکوں میں تعلقات مذہب، ثقافت سے زیادہ تجارتی بنیاد پر قائم ہیں، موثر سفارت کاری سے دوسرے ملکوں سے تجارتی تعلقات میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ دنیا کے مختلف ملکوں کے سربراہان کو پاکستانی آموں کے تحفے بھیجے گئے، تحائف کا مقصد مختلف ملکوں میں پاکستانی آم کی مارکیٹ بڑھانا ہے۔

صدر پاکستان عارف علوی نے کہا کہ دنیا میں پیسہ تیل کمپنیوں سے نکل کر آئی ٹی کمپنیوں کے پاس جاچکا ہے، پاکستان آئی ٹی کے شعبے کو فروغ دے کر برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے، آئی ٹی کے شعبے میں خواتین کےلیے ترقی کے بہت مواقع ہیں۔

سربراہ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام کے ذریعے غریب، نادر افراد میں امداد تقسیم کی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں