سینئر ایرانی عالم دین نے کہا ہے کہ تہران ایٹم بم نہیں چاہتا ہے۔
ایرانی نیوز ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق سینئر ایرانی عالم دین احمد خاتمی کا کہنا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور اس پروگرام کو "غیر متعلقہ” کے طور پر معطل کرنے کے عالمی مطالبوں کو مسترد کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی جاری رکھے گا۔
خاتمی نے کہا کہ اگرچہ ان کا ملک ایٹم بم بنانے کی کوشش نہیں کر رہا لیکن یہ امریکا سے نہیں ڈرتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران ایٹم بم کے لئے جوہری توانائی نہیں چاہتا ہے اور افزودگی کی رضاکارانہ معطلی کا مطالبہ "غیر متعلقہ بیان” ہے۔
ایران اور امریکا نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ دنوں میں مشاورت کر کے مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ مقرر کی جائے گی۔
عمان میں ہونے والے مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریاک سے مذاکرات کی اچھی شروعات ہوئی ہے مسقط میں امریکا سے تبادلہ اچھا اور مذاکرات کا مثبت آغاز تھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا سے جوہری مذاکرات جاری رکھنےکےلیے مفاہمت کی ہے مذاکرات بالواسطہ ہوئے اور دونوں فریقین کےخیالات، تحفظات ایک دوسرے تک پہنچائے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کار مشاورت کیلئے اپنے ملک واپس جائیں گے اور بات چیت جاری رہےگی تاہم امریکا کے ساتھ "بے اعتمادی کی دیوار”کو عبور کرنا ہو گا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


