The news is by your side.

Advertisement

عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو انتقال کر گئے

کراچی: عوامی تحریک کے بانی سربراہ اور انسانی حقوق کے وکیل رسول بخش پلیجو طویل علالت کے بعد 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق رسول بخش پلیجو کراچی کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔ ان کی تدفین آج ان کے آبائی گاؤں میں کی جائے گی۔

رسول بخش پلیجو سنہ 1930 میں ٹھٹھہ کے علاقے جنگ شاہی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم سندھ مدرستہ الاسلام سے حاصل کی تھی۔

رسول بخش پلیجو نے ساری زندگی مارشل لا، جاگیرداری نظام اور سامراجیت کے خلاف جدوجہد کی۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں وہ 11 سال جیل میں رہے۔ سنہ 1981 میں ایمنسٹی انٹرنیشل نے انہیں ’ضمیر کا قیدی‘ قرار دیا۔

وہ کئی سیاسی پارٹیوں، تحریکوں، کمیٹیوں اور فورمز کے بانی ہیں جن میں عوامی نیشنل پارٹی، سندھ متحدہ محاذ، سندھ قومی اتحاد، بزم صوفیا سندھ، سندھ ادبی سنگت، اینٹی ون یونٹ تحریک، تحریک بحالی جمہویت، عوامی تحریک، سندھ ہاری کمیٹی، سندھیانی تحریک، سندھ ہاری تحریک، سندھی مزدور تحریک، سندھی عوام جو قومی اتحاد اور اینٹی گریٹر تھل کینال اینڈ کالا باغ ڈیم ایکشن کمیٹی شامل ہیں۔

جنرل ضیا الحق کے دور میں تحریک بحالی جمہوریت میں رسول بخش پلیجو نے اہم کردار ادا کیا۔

رسول بخش پلیجو سندھی، اردو اور انگریزی کے ساتھ ساتھ ہندی، فارسی، عربی، بلوچی، بنگالی، سرائیکی اور پنجابی زبان بولنے میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ وہ ایک دانشور اور مصنف ہونے کے ساتھ سپریم کورٹ کے وکیل بھی رہے۔

رسول بخش پلیجو 40 کتابوں کے مصنف بھی تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں