The news is by your side.

Advertisement

ماحول دشمنی برداشت نہیں، ’’سیپا‘‘ کا دو ٹوک مؤقف

ایک ادارے میں پچھلے دنوں کسی کام سے جانے کا اتفاق ہوا۔ جن صاحب سے ملاقات تھی، وہ ایک میٹنگ میں مصروف تھے۔ وقت گزاری کے لیے ویٹنگ روم میں ٹیبل پر دھرا اخبار تھام لیا۔ خبریں نظر سے گزرتی رہیں۔ انہی میں ایک خبر تھی فضائی آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف ادارۂ تحفظِ ماحولیات (سیپا) کی کارروائیوں کی۔ ابتدائی سطور پڑھیں تو پہلے تو یہ الجھن ہوئی کہ ادارۂ تحفظِ ماحولیات کا مخفف ‘‘سیپا’’ کیسے ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ اس ادارے کے ساتھ ہی قوسین میں سیپا لکھ دیا گیا تھا۔ ایک عام اور کم فہم قاری کے لیے تو یہ ایک عجیب ہی بات تھی۔ خیر، اس کا جواب پوری خبر پڑھنے سے مل ہی گیا۔ یہ ادارہ سندھ انوائرونمنٹل پروٹیکشن ایجنسی ہے جو اس وقت وزیر اعلی سندھ کے مشیر ماحولیات و قانون اور حکومتی ترجمان بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایات پر ماحولیاتی بقا اور بہتری کے لیے متحرک و فعال ہو چکا ہے۔

ہم اپنے قارئین پر نجانے کیوں یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ ادارہ کرپشن، وعدہ خلافی، دھوکا دہی اور اس قسم کی دیگر آلودگیوں کے خلاف کام نہیں کرتا۔ بہرحال، بیرسٹر مرتضی وہاب کی جانب سے فضائی آلودگی کے خلاف مہم کا اعلان ہونے کے بعد اب سیپا میدانِ عمل میں ہے جو سندھ دھرتی اور اس کے باسیوں کے مفاد میں اور ایک خوش آئند بات ہے۔

قارئین، فضائی آلودگی اور ماحولیات کا مسئلہ دنیا کے لیے دردِ سر بن چکا ہے۔ عالمی سطح پر ماحول کے تحفظ، زمین اور اس پر موجود جانداروں کی بقا اور صحت کے حوالے بڑے پیمانے پر کام کرنے اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے۔ جدید اور ترقی یافتہ ملکوں نے اس حوالے سے کام شروع بھی کر دیا ہے، مگر ابھی ہمارا زور دھرنوں، استعفوں، الزامات اور اسی قسم کے دیگر معاملات پر ہے۔ سرکاری و نجی اداروں کے تحت کوئی گرین پاکستان مہم ہو یا وزیراعظم عمران خان کی شجر کاری میں ذاتی دل چسپی اور کوششیں ہمیں سب سے پہلے اس حوالے سے بڑے پیمانے پر آگاہی اور شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا شماران ملکوں میں ہوتا ہے جہاں قدرتی ماحول اور زمین کو مختلف اقسام کی آلودگی سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ اس پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے دنوں میں بدترین صورتِ حال جنم لے سکتی ہے۔ اب سندھ میں حکومتی سطح پر اقدامات کا آغاز ہوا ہے تو اسے نہ صرف جاری رہنا چاہیے بلکہ بلاتفریق اور اس سلسلہ کو ہر قسم کے دبائو کے بغیر آگے بڑھانا ہو گا۔ یہ ہماری بقا کا معاملہ ہے۔

حال ہی میں سیپا نے ٹھٹھہ کے علاقے دھابیجی میں معیار اور صنعتی قوانین کو نظر انداز کرنے والی فیکٹری کے خلاف کارروائی کی ہے۔ استعمال شدہ دھاتی اشیا کی ری سائیکلنگ کرنے والی یہ فیکٹری فضائی آلودگی پھیلا رہی تھی جس سے سانس اور جلد کے امراض سمیت صحت کے لیے دیگر مسائل جنم لے رہے تھے۔ اسی طرح سیپا کی ٹیم نے بلدیہ کے علاقے میں بیٹریاں پگھلانے والے غیر قانونی کارخانوں پر چھاپے مارے جن کی وجہ سے نہ صرف ماحول آلودہ ہو رہا تھا بلکہ وہاں کے مکینوں کی صحت بھی متاثر ہورہی تھی۔ حالیہ دنوں میں ضرر رساں فضلہ تلف کرنے کی تین سائنسی بھٹیوں (انسنریٹرز) کو تلفی کا ناقص طریقہ اپنانے پر نوٹس دیا گیا ہے۔ سندھ کے ہر ذمہ دار باسی، ہر باشعور فرد کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے اس کا دائرہ ماحولیات کے تحفظ اور بقا سے متعلق دیگر شعبوں تک بڑھائے اور خاص طور پر چھوٹے پیمانے کے کارخانہ داروں کو اس ضمن میں آگاہی دے کر انھیں ماحول دوست بننے میں مدد دے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں