The news is by your side.

Advertisement

سندھ فوڈ اتھارٹی کی سنگین غفلت منظرِ عام پر آ گئی

دو بچوں کی موت کے بعد محکمے کو ہوش آ گیا، اتھارٹی کے بورڈ کا ہنگامی اجلاس کل طلب

کراچی: محکمۂ فوڈ سندھ کی سنگین غفلت منظرِ عام پر آ گئی، 7 ماہ گزر گئے لیکن سندھ فوڈ اتھارٹی مکمل فعال نہ ہو سکی۔

تفصیلات کے مطابق محکمۂ فوڈ سندھ کی سنگین غفلت کے باعث سات ماہ کے عرصے میں بھی سندھ فوڈ اتھارٹی کو مکمل طور پر فعال نہیں کیا جا سکا۔

ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لِٹس پر چھاپوں کے لیے طلبہ کی خدمات لی جاتی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ فوڈ اتھارٹی میں اب تک فوڈ انسپکٹرز کی بھرتیاں نہیں ہو سکی ہیں، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لِٹس پر چھاپوں کے لیے طلبہ کی خدمات لی جاتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ڈیلی ویجز کی بنیاد پر جامعات کے طلبہ سے فوڈ سیفٹی آفیسرز کا کام لیا جاتا ہے، بجٹ مختص کیے جانے کے با وجود اتھارٹی اپنی لیب بھی نہیں بنا سکی ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ مختلف ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں سے لیے گئے کھانوں کے نمونوں کو نجی لیبارٹریز سے چیک کرایا جاتا ہے۔

سندھ فوڈ اتھارٹی ایکٹ کے تحت ریسٹورنٹس کا لائسنس یافتہ ہونا بھی ضروری ہے، تاہم شہر میں غیر معیاری ریسٹورینٹس کی بھرمار ہے۔


تفصیل یہاں پڑھیں:  کراچی: کلفٹن میں مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق، ریسٹورنٹ سیل. 4 افراد زیر حراست


سندھ فوڈ اتھارٹی نے محکمے میں با قاعدہ بھرتیاں نہ ہونے کا اعتراف کر لیا، 2 بچوں کی موت کے بعد محکمے کو ہوش آ گیا، اتھارٹی کے بورڈ کا ہنگامی اجلاس کل طلب کر لیا گیا۔

اتھارٹی میں 6 عارضی سیفٹی فوڈ انسپکٹرز کام کر رہے ہیں۔

ذرائع

ذرائع کے مطابق اتھارٹی میں 6 عارضی سیفٹی فوڈ انسپکٹرز کام کر رہے ہیں، ہوٹلز اور دیگر کھانے پینے کی اشیا بیچنے والوں کو لائسنس دینے کا فیصلہ ہوگا۔

خیال رہے کہ آج شہرِ قائد کے علاقے کلفٹن میں مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق ہو گئے، پولیس نے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی ٹیمیں طلب کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈائریکٹر سندھ فوڈ اتھارٹی ابرار شیخ نے کہا ہے کہ ریسٹورنٹ میں بچا ہوا کھانا فریزر میں رکھا ہوا تھا، ریسٹورنٹ کا کچن بدبو دار نکلا، سندھ فوڈ اتھارٹی نے 2 لیبارٹریز سے ٹیسٹنگ کنٹریکٹ کیا ہوا ہے جہاں کھانے کے نمونے ٹیسٹنگ کے لیے بھجوائے جا رہے ہیں، ریسٹورنٹ کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں