The news is by your side.

Advertisement

دو کمسن ملازماؤں پر بہیمانہ تشدد

لاہور / اسلام آباد: تعلیم یافتہ طبقے نے درندگی کی مثالیں قائم کردیں۔ لاہور اور اسلام آباد میں کم عمر ملازماؤں پر تشدد کے واقعات سامنے آگئے۔

لاہور کے علاقے گلدشت ٹاؤن میں 14 سالہ ملازمہ حرا کو جناح اسپتال کی ڈاکٹر تانیہ اور ان کے شوہر نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ حرانے الزام لگایا کہ ڈاکٹر تانیہ نے مبینہ طور پر تیل چھڑک کر اسے آگ لگانے کی کوشش کی اور اسے زہر کے ٹیکے کی دھمکیاں بھی دیں۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر تانیہ کا مؤقف ہے کہ واقعہ حادثی ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے اے آر وائی نیوز کی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے بچی کا علاج سرکاری خرچے پر کروانے کا اعلان کیا ہے۔

متاثرہ بچی کی والدہ نے با اثر مالکان کی جانب سے ہراساں کیے جانے کا الزام لگایا اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے انصاف کی اپیل کی۔

دوسری جانب اسلام آباد میں سیشن جج کے گھر کام کرنے والی 10 سالہ گھریلو ملازمہ طیبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ بچی طیبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ گزشتہ 2 سال سے اپنے مالکان کے تشدد کا نشانہ بن رہی ہے۔

واقعہ کے بعد چیف جسٹس انور خان کاسی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو انکوائری کی ہدایت کردی۔ ایڈیشنل سیشن جج اور ان کی اہلیہ نے اپنا بیان رجسٹرار کے سامنے قلمبند کروا دیا۔ واقعہ کی انکوئری مکمل ہونے تک ایڈیشنل سیشن جج اپنی جوڈیشل پاور استعمال نہیں کر سکیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں