قبائلی اضلاع میں سِول اور سیشن کورٹ کے قیام کی منظوری -
The news is by your side.

Advertisement

قبائلی اضلاع میں سِول اور سیشن کورٹ کے قیام کی منظوری

پشاور: خیبر پختون خوا کی حکومت نے قبائلی اضلاع میں سِول اور سیشن عدالت کے قیام کی منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) میں پی ٹی آئی حکومت نے عدالتوں پر کام شروع کر دیا، کے پی حکومت نے اس سلسلے میں سِول و سیشن کورٹ کے قیام کی منظوری دے دی۔

کورٹ کے قیام پر سالانہ 545 ملین روپے سے زائد لاگت آئے گی۔

سِول و سیشن کورٹ کے قیام اور اسامیوں کی منظوری وزیرِ اعلی محمود خان نے دی۔

ابتدائی مرحلے میں سول و سیشن کورٹ کے لیے اسامیاں پُر کی جائیں گی، کورٹ کے قیام پر سالانہ 545 ملین روپے سے زائد لاگت آئے گی۔

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا محمود خان نے کہا کہ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح قبائلی عوام کو انصاف کی فراہمی کو ممکن بنا رہے ہیں۔

کے پی وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ عدالتوں کے قیام کے ذریعے قبائلی علاقوں میں تیزی کے ساتھ سستے انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  خیبر پختون خوا کابینہ کا اجلاس پہلی بار قبائلی ضلع میں 

خیال رہے کہ اکتیس جنوری کو صوبہ خیبر پختون خواہ کی کابینہ کا اجلاس پہلی بار قبائلی ضلع میں ہوا، یہ فیصلہ وزیرِ اعظم عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں کیا گیا۔

اسٹیبلشمنٹ ڈپارٹمنٹ نے کابینہ اجلاس کا ایجنڈا مرتب کیا، اجلاس 16 نکاتی ایجنڈے پر مشتمل تھا، قبائلی اضلاع میں سیشن کورٹس کے قیام سے متعلق امور بھی ایجنڈے کا حصہ تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں