The news is by your side.

Advertisement

کرنٹ سے ہلاکتیں: کے الیکٹرک کے خلاف ساتویں ایف آئی آر درج، کوئی گرفتاری عمل میں نہ آئی

کراچی: شہر قائد میں بارش کے دوران کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والے نوجوان کے لواحقین نے کے الیکٹرک کے خلاف ایف آئی آر درج کرادی جس کے بعد اب تک رجسٹرڈ ہونے والے کیسز کی تعداد 7 تک پہنچ گئی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں ہونے والی حالیہ مون سون بارشوں کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں 20 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں تھیں جن میں  کھارادر کے علاقے میں عمیر نامی نوجوان بھی شامل تھا۔

عمیر کے بھائی نے کے الیکٹرک انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی جس میں استدعا کی گئی کہ آرٹیکل 322 اور پاکستان پینل کوڈ 268 کے تحت کے الیکٹرک حکام کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں کے الیکٹرک کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کی تعداد 7 ہوگئی البتہ اب تک پولیس کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی۔

یاد رہے کہ شہر قائد میں ہونے والی مون سون بارشوں کے دوران دو ہفتے میں تقریبا 30 کے قریب افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

مزید پڑھیں: کرنٹ سے ہلاکتیں، کے الیکٹرک کے خلاف پانچواں مقدمہ درج

مقتولین کو گھروں، گلیوں اور شاہراہوں پر لگے کھمبوں سے کرنٹ لگا، انسانوں کے علاوہ قربانی کے لیے لائے گئے قیمتی جانور بھی کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے تھے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کے الیکٹرک انتظامیہ کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تھا کہ اگر انتظامیہ کرنٹ روکنے کے اقدامات نہیں کرتی تو بارش کے اوقات میں بجلی منقطع کردے۔

یاد رہے کہ تیرہ اگست کو میئر کراچی متاثرہ خاندان کے ہمراہ کے الیکٹرک کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرانے درخشاں تھانے پہنچے تھے، چار گھنٹے کی طویل جدوجہد کے بعد پولیس نے  میئر کراچی اور مقتولین کے والدین کی درخواست پر سی ای او کے الیکٹرک، مالک عارف نقوی کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں