The news is by your side.

Advertisement

کرونا ویکسین تیار کرنے کی دوڑ میں شامل بڑے ادارے

نیویارک: کرونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کی دوڑ میں شامل سات بڑے اداروں کی فہرست سامنے آگئی۔

تفصیلات کے مطابق جیسے جیسے کرونا وائرس سے متاثر افراد دنیا کے مختلف ملکوں میں سامنے آ رہے ہیں، اس نئے وائرس کے خلاف ویکسین بنانے کی دوڑ تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں 7 ایسے بڑے اداروں کے نام سامنے آئے ہیں جو کرونا کے لیے ویکسین کی تیاری میں مگن ہیں۔

1- فائزر اور بائیو ٹیک

رواں سال مارچ میں فائزر انکارپوریشن اور بائیوٹینک ایس ای نے اعلان کیا تھا کہ دونوں کمپنیوں نے مشترکہ طور ایم آر این اے پر مبنی کرونا وائرس کی ویکسین بنانے پر اتفاق کیا ہے۔اس کا مقصد ایک سے زیادہ کو وڈ 19 ویکسین امیدواروں کو بائیو ٹیک کے ملکیتی ایم آر این اے ویکسین پلیٹ فارم پر مبنی انسانی کلینیکل ٹیسٹنگ میں تیزی سے آگے بڑھانا تھا۔

بائیو ٹیک ایس ای اور فائزر نے رواں سال اپریل میں اعلان کیا تھا کہ جرمن ریگولیٹری اتھارٹی اور پال ایرلچ انسٹیٹیوٹ نے بائیو ٹیک کے بی این ٹی 162 ویکسین پروگرام کے فیز ون اور ٹو کلینیکل ٹرائل کی منظوری دے دی ہے۔

فائرز کرونا وائرس ویکسین کی تحقیق میں 5 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے اور اپنی منیوفیکچرنگ صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے مزید 15 ملین ڈالر خرچ کر رہی ہے۔

2-موڈرنا

امریکی بائیو ٹیک فرم موڈرنا نے 18 مئی کو اعلان کیا کہ اس کے تجرباتی کرونا ویکسین کے مرحلے میں شریک امیدواروں میں وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا ہوئی ہیں۔

موڈرنا اور نیشنل انسٹیٹیوٹ برائے الرجی اور متعدد امراض کی جانب سے مشترکہ طور پر ویکسین کا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔کمپنی نے ٹرائل کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ 25 مائیکرو گرام کی دو ویکسین کی خوراکوں سے پتہ چلا ہے کہ ٹرائل کے 43 دن تک انسانوں میں اینٹی باڈیز اسی لیول پر تیار ہوئیں جو کرونا وائرس سے صحت یاب ہوئے ہیں۔

3- آکسفورڈ یونیورسٹی

یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے محققین کی جانب سے مارچ میں ایک ممکنہ ویکسین تیار کرنا شروع کی گئی جو جنیاتی تسلسل پر مشتمل ایک بے ضرر وائرس کا استعمال کرتی ہے۔

یونیورسٹی کے جینز انسٹیٹیوٹ اور آکسفورڈ ویکسین گروپ کے محققین غیر معمولی رفتار سے کام کر رہے ہیں اور ویکسین کی تیاری کو حتمی شکل دیتے ہوئے پلیسبو کنٹرولڈ کلینیکل ٹرائل شروع کر رہے ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے گزشتہ ہفتے 1100 لوگوں پر ویکسین کی آزمائش کی گئی جس کا مقصد امیدواروں کی جانچ اور ویکسین کی افادیت کو مانیٹر کرنا ہے۔

4- کینسینو بائیو لوجکس

چینی کمپنی کینسینو بائیو لوجکس اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کرونا وائرس ویکسین تیار کر ہی ہے جس کی وجہ سے چین کو ایبولا وائرس کی منظور شدہ ویکسین حاصل ہوئی۔

کینسیو کے مطابق ویکسین کے لیے کرونا وائرس کے جنیاتی کوڈ کا ٹکرا لینا اور اسے ایک بے ضرر وائرس میں شامل کر کے صحت مند رضا کاروں کو کرونا انفیکشن سے بچانا اور اینٹی باڈیز تیار کرنا ہے۔

چینی کمپنی اپنی ویکسین اے ڈی فائیو اور این سی او وی کو دوسرے مرحلے میں منتقل کرنے والی پہلی دعوے دار بن گئی ہے جو ووہان میں بن رہی ہے۔

5- انویو

امریکی بائیو ٹیک فرم انویو نےگزشتہ چار دہائیوں میں ڈی این اے کو دوائی میں تبدیل کرنے لیے کام کیا ہے اور کمپنی کا خیال ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی تیزی سے کرونا وائرس لیے ایک ویکسین تیار کرسکتی ہے۔

انویو ایک ڈی این اے ویکسین لے کر آئی ہے جس کا خیال ہے کہ وہ حفاظتی اینٹی باڈیز تیار کرسکتی ہے اور مریضوں کو انفیکشن سے بچا سکتی ہے اور حوالے سے 2۔17 ملین ڈالر کی گرانٹ ملی ہے۔

کمپنی نے گزشتہ ماہ 6 اپریل کو اپنے پہلے مرحلے ایک ٹیسٹ میں پہلے مریض پر ویکسین کی آزمائش کی اور اس نے پہلے مرحلے میں 40 افراد کا اندارج کیا ہے جن پر ویکسین کی آزمائش کی جائے گی۔کمپنی نے چینی منیوفیکچرنگ، بیجنگ ایڈوکاسین بائیو ٹیکنالوجی کے ساتھ ویکسین تیار کرنے کے لیے شراکت کی ہے۔

6- امپیریل کالج لندن

امپیریل کالج لندن امیونولوجسٹ روبن شٹاک کی سربراہی میں کرونا وائرس کے لیے آر این اے پر مبنی ویکسین تیار کر رہا ہے، ادارے کے سائنسدانوں نے وائرس سے ماخوذ آر این اے اسٹینڈ انجینئر کیا ہے جو خلیوں میں داخل ہوجائے گا۔

برطانوی حکومت کی جانب سے 2۔22 ملین ڈالر ادارے کو موصول ہوئے تھے اور 17 مئی کو اسے اضافی طور پر 5۔18 ملین ڈالر دیے گئے ہیں، امید ہے کہ ادارہ رواں سال کے آخر میں تیسرے مرحلے کے ٹرائلز شروع کرسکے گا۔

7-سینوواک

چینی کمپنی سینوواک بائیو ٹیک لمیٹڈ کو کرونا وائرس سے متعلق ویکسین بنانے کے حوالے سے بڑا امیدوار مانا جاتا ہے۔کمپنی کرونا وائرس کے غیر فعال ورژن کا استعمال کر کے ایک ویکسین تیار کر رہی ہے۔

کمپنی نے اسی ٹیکنالوجی کو ہیپاٹائٹس اے اور بی، ایویئن فلو، سوائن فلو اور وائرس جو ہاتھ،پاؤں اور منہ کی بیماری کا سبب بنتے ہیں کے لیے استعمال کیا۔

کمپنی کے سی ای او ین ویڈونگ نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ سنوواک دوسرے ممالک میں ریگولیٹرز اور عالمی ادارہ صحت کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے کہ جہاں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے وہ تیسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائلز کا آغاز کرسکے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں