اٹھارہ سال سے کم عمرلڑکی سے شادی زنا تصور ہوگی، انڈین کورٹ rape
The news is by your side.

Advertisement

اٹھارہ سال سے کم عمرلڑکی سے شادی زنا تصور ہوگی، انڈین کورٹ

نئی دہلی : بھارت کی اعلیٰ عدالت نے اٹھارہ سال سے کم عمر اہلیہ سے جسمانی تعلق رکھنے کو زنا سے تعبیر کرتے ہوئے تعزیرات ہند کے تحت جرم قرار دے  دیا ہے.

تفصیلات کے مطابق بھارت کی سپریم کورٹ نے یہ حکم مقامی سماجی تنظیم کی جانب سے دائر مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے دیا جس میں استدعا کی گئی تھی کہ تعزیراتِ ہند کی دفعہ 375 کی شق دو میں سقم کے باعث ناجائز فائدہ اُٹھا یا جا رہا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ 375 کی شق 2 میں زنا کے تعریف کے مطابق 15 سے 18 سال عمر کی کم سن اہلیہ کے ساتھ جنسی تعلقات زنا کے زمرے میں نہیں آتے جسے تبدیل کر کے کم سے کم عمر 18 سال قرار دی جائے۔

درخواست میں کہا گیا کہ قانون کے اس سقم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کم سن لڑکیوں سے شادی ایک کاروبار کی حیثیت اختیار کر گئی ہے اور اس قسم کی صورت حال غریب علاقوں میں تشویشناک ہو چکی ہے جس کے سدباب کے لیے معزز عدالت کو اس شق کی مزید وضاحت کرنے کی ضرورت ہے.

دوسری جانب وکیل دفاع نے کہا کہ کچھ علاقوں میں کم سن لڑکیوں کو شادی کے بعد بیاہ کر سسرال لے آیا جاتا ہے تاکہ وہ گھر کے کام کاج کرسکیں اور اپنے سسرالیوں کا ہاتھ بٹا سکے ایسی بچیوں کے ساتھ شوہر کو ہم بستری کی اجازت نہیں ہوتی اور جسمانی تعلقات کی اجازت بالغ ہونے پر ہی دی جاتی ہے.

عدالت عالیہ نے دو طرفہ دلائل سننے کے بعد اپنے فیصلے میں کہا کہ 18 سال کم عمر اہلیہ کے ساتھ جسمانی تعلقات رکھنے کو زنا سے تعبیر کیا جائے گا اور کم سن اہلیہ کی جانب سے شکایت درج کرانے پر پولیس کارروائی کر سکتی ہے اور شوہر پر زنا کا مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں