منگل, جولائی 14, 2026
اشتہار

شباب کیرانوی: فلمی دنیا کی ایک عہد ساز شخصیت

اشتہار

حیرت انگیز

شباب کیرانوی کے تذکرے کے بغیر پاکستانی فلم انڈسٹری کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔ انھیں عہد ساز شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنھوں نے پاکستانی فلموں کی ترقّی اور ترویج میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔

کیرانہ انڈیا کے مشہور ضلع مظفرنگر (اُترپردیش ) کا ایک معروف قصبہ ہے جہاں شباب کیرانوی نے ایک محنت کش حافظ محمد اسماعیل کے گھر میں آنکھ کھولی۔ والدین نے ان کا نام نذیر احمد رکھا۔ اسکول میں دورانِ تعلیم نذیر احمد کو شاعری کا شوق ہوگیا۔ وہ شعر کہنے لگے اور تخلّص ’’شباب‘‘ رکھا اور بعد کے برسوں میں اپنی جائے پیدائش کی مناسبت سے شباب کیرانوی مشہور ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے لاہور آ بسا اور یہاں شباب صاحب کی شاعری کا سلسلہ جاری رہا، انھوں نے اپنے وقت کے معروف شاعر علامہ تاجور نجیب آبادی کے آگے زانوئے تلمذ طے کیا اور باقاعدہ لکھنے لگے۔ شاعری کے ساتھ اسی دور میں ان کا رجحان فلم سازی اور کہانی لکھنے کی طرف ہوگیا۔ اس دور میں لاہور فلمی مرکز تھا اور شباب نے قسمت آزمانے کا فیصلہ کر کے 1955ء میں فلم ’’جلن‘‘ سے بہ طور فلم ساز، نغمہ نگار، کہانی اور مکالمہ نویس اپنا سفر شروع کیا۔ یہی بہ طور فلمی شاعر شباب کیرانوی کی اوّلین فلم بھی تھی۔ وہ پاکستان کے معروف فلم ساز، ہدایت کار، کہانی نویس بنے اور شاعری میں بھی نام پیدا کیا۔ ’’جلن‘‘ کے بعد شباب کیرانوی نے متعدد فلموں کے لیے نغمہ نگاری کی، جن میں زیادہ تر اُن کی اپنی پروڈکشن کے بینر تلے بنائی گئی تھیں۔ شباب کیرانوی کے دو شعری مجموعے بھی بعد میں‌ شایع ہوئے۔

1957ء میں شباب کیرانوی کی ایک اور فلم ٹھنڈی سڑک ریلیز ہوئی جس میں اداکار کمال پہلی بار اسکرین پر متعارف ہوئے۔ شباب کیرانوی کا یہ سفر ایک فلم ساز اور ہدایت کار کے طور پر جاری رہا اور ان کی متعدد فلمیں باکس آفس پر کام یاب ہوئیں۔ ان میں ثریا، مہتاب، ماں کے آنسو، شکریہ، عورت کا پیار، فیشن، آئینہ، تمہی ہو محبوب مرے، انسان اور آدمی، دامن اور چنگاری، آئینہ اور صورت، انسان اور فرشتہ، وعدے کی زنجیراور میرا نام ہے محبت سرِفہرست ہیں۔

شباب کیرانوی نے بہترین ہدایت کار اور بہترین کہانی نگار کے زمرے میں‌ دو نگار ایوارڈز اپنے نام کیے جب کہ ان کی متعدد فلموں کو مختلف زمروں‌ میں‌ کئی ایوارڈز دیے گئے۔ انھوں نے فلمی صنعت میں کئی باصلاحیت فن کار بھی متعارف کروائے جن میں‌ کمال، بابرہ شریف، غلام محی الدین، ننھا، عالیہ، علی اعجاز، انجمن، فرح جلال، جمشید انصاری اور طلعت حسین کے نام لیے جاتے ہیں۔

فلم ساز، ہدایت کار، کہانی نویس اور شاعر شباب کیرانوی کا انتقال 5 نومبر 1982ء کو ہوا۔ لاہور میں‌ ان کا اسٹوڈیو شباب اسٹوڈیوز کے نام سے مشہور تھا۔ شباب کیرانوی اسی اسٹوڈیو کے احاطے میں‌ آسودۂ خاک ہیں۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں