ہفتہ, جولائی 18, 2026
اشتہار

جب شبانہ اعظمی اپنے ابّا کی ادبی حیثیت کی ’’قائل‘‘ ہوگئیں!

اشتہار

حیرت انگیز

اردو ادب اور فلم کی دنیا میں کیفی اعظمی کا نام نظم کے اہم شاعر اور مقبول گیتوں کے خالق کے طور پر آج بھی سنائی دیتا ہے۔ ان کی کئی نظمیں آج بھی دلوں میں گرمی، جوش اور سرفروشی کی تمنا پیدا کرتی ہیں۔ کیفی اعظمی نے بھرپور زندگی گزاری اور ترقی پسند ادب کے زمانہ میں اپنے نظریات کی بدولت پہچانے گئے۔

بھارت کی مشہور اداکارہ شبانہ اعظمی انہی کی بیٹی ہیں۔ یہاں ہم شبانہ اعظمی کی اپنے والد کیفی اعظمی کے حوالے سے تحریر سے اقتباس پیش کررہے ہیں جو آپ کی دل چسپی کا باعث بنے گا۔ وہ لکھتی ہیں:

یہ بات میں نے اپنے بچپن میں ہی محسوس کرلی تھی کہ میرے ابا دوسرے ’’ڈیڈیوں‘‘ سے بالکل الگ قسم کے انسان ہیں۔ وہ ان کی طرح صبح اٹھ کر ’’دفتر‘‘ نہیں جاتے اور نہ ہی دوسرے بچوں کے معزّز ’’پاپاؤں‘‘ کی طرح قمیص اور پتلون پہنتے ہیں اور نہ ہی ان کی طرح انگریزی بولتے ہیں۔ اپنی کلاس کے دوسرے بچوں کی طرح میں اپنے ابا کو ڈیڈی کہہ کر مخاطب نہیں کرتی اور یہ لفظ ’’ابا‘‘ کانوں میں کچھ عجیب سا، کافی کھردرا کھردرا سا لگتا تھا۔

ان تمام باتوں کی وجہ سے میں اپنی چوتھی اور پانچویں کلاس کی سہیلیوں میں اپنے آپ کو دل ہی دل میں کچھ ’’ذات باہر‘‘ محسوس کرتی تھی۔ میں نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ بہت جلد ہی سیکھ لیا کہ اپنی ہم جماعت لڑکیوں سے بات چیت کرتے وقت ’’ابا‘‘ کا ذکر کرنا ہی گول کر دوں۔ اگر کوئی پوچھتا کہ ’’ابا‘‘ کیا کرتے ہیں تو میرا گول مول جواب ہوتا تھا ’’بزنس۔‘‘ یہ تو میں تصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ میں اس بات کا اعتراف کروں کہ میرے ابا ’’شاعر‘‘ ہیں، یعنی دوسرے لفظوں میں کہوں کہ وہ ایک بے کار قسم کے انسان ہیں اور کوئی کام وام نہیں کرتے۔ لیکن پھر ایک دن ایک معجزہ ہوا۔

میری ایک ہم جماعت لڑکی نے کہا کہ اس کے ’’ڈیڈی‘‘ نے میرے ڈیڈی کا نام اخبار میں پڑھا ہے۔ اخبار والوں نے میرے ڈیڈی کی ایک نظم کی بہت تعریف کی ہے۔ اس انکشاف نے مجھے فوراً اپنے ابا کا قائل کر دیا اور میں نے فوراً اپنے ابا کو ’’ابا‘‘ تسلیم کر لیا، وہ بھی کُرتے پاجامے کے ساتھ!

ہے کوئی اور بچہ میری کلاس میں جس کے ڈیڈی کا نام اخبار میں چھپا ہو؟

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں