لندن (11 مارچ 2026): برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے فلسطین کی حمایت میں مارچ پر پابندی لگا دی۔
لندن میں اتوار کو فلسطین حامی مارچ میں ہزاروں افراد کی شرکت متوقع تھی، برطانوی وزیر داخلہ نے سیکیورٹی خدشات کے باعث مارچ پر پابندی کی منظوری دی۔
بی بی سی کے مطابق حکومت نے میٹروپولیٹن پولیس کی درخواست منظور کر لی ہے کہ اتوار کے روز لندن میں ہونے والی ایک مارچ پر پابندی لگا دی جائے، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم سنگین عوامی بدامنی کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔
سالانہ یومِ القدس مارچ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ ایک پرامن اور فلسطین کے حق میں احتجاج ہے، تاہم اس مارچ پر پہلے بھی یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ یہ ایرانی حکومت کے نظریات کی نمائندگی کرتا ہے۔
برطانیہ کی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ پابندی احتجاج کے بڑے پیمانے اور اس کے خلاف ہونے والے متعدد جوابی مظاہروں کی وجہ سے لگائی گئی ہے۔ جب کہ منتظمین کا کہنا ہے کہ مارچ کی بجائے اب ایک جامد (ایک جگہ کھڑے ہو کر) احتجاج کیا جائے گا۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے اسرائیلی و امریکی حملے میں زخمی ہونے کی خبریں
یہ 2012 کے بعد پہلی بار ہے کہ کسی احتجاجی مارچ پر پابندی لگائی گئی ہے، میٹروپولیٹن پولیس نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ آسانی سے نہیں کیا۔ اس تقریب کے منتظم ادارے اسلامی انسانی حقوق کمیشن سے وابستہ فیصل بودی نے کہا کہ مارچ پر پابندی آزادیٔ اظہار کے لیے ایک افسوسناک دن ہوگا۔
ایک بیان میں شابانہ محمود نے کہا میں مطمئن ہوں کہ یہ فیصلہ سنگین عوامی بدامنی کو روکنے کے لیے ضروری ہے، اگر ایک جگہ پر مظاہرہ کیا جاتا ہے تو پولیس اس پر سخت شرائط لاگو کر سکے گی۔ انھوں نے کہا کہ جو لوگ پرامن احتجاج کی بجائے نفرت اور تقسیم پھیلائیں گے ان کے خلاف قانون پوری سختی سے نافذ کیا جائے گا۔
میٹروپولیٹن پولیس کے پبلک آرڈر کے سربراہ اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ یہ پابندی یوم القدس مارچ اور اس سے متعلقہ تمام جوابی مارچوں پر لاگو ہوگی، یہ پابندی بدھ کے روز شام 4 بجے سے نافذ ہو کر ایک ماہ تک جاری رہے گی۔ انھوں نے مزید کہا یوم القدس مارچ ایک خاص طور پر متنازعہ مظاہرہ ہے کیوں کہ اس کی ابتدا ایران میں ہوئی تھی اور لندن میں اسے اسلامی ہیومن رائٹس کمیشن منعقد کرتا ہے، جو ایرانی حکومت کی حمایت کرنے والی تنظیم سمجھی جاتی ہے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ پولیس نے پہلے سیاسی نظریات کے مختلف گروہوں کے سینکڑوں احتجاجات کو محفوظ طریقے سے سنبھالا ہے، جن میں 32 بڑے فلسطین کے حق میں مظاہرے اور ایرانی حکومت کے حق اور مخالفت میں کئی مظاہرے شامل تھے۔ لیکن اس مارچ میں خاص نوعیت کے خطرات اور چیلنجز موجود ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


