لندن (10 فروری 2026): برطانیہ کی سیاست اس وقت شدید بحران اور اندرونی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے، وزیرِ اعظم کیر اسٹارمر کو اپنی ہی لیبر پارٹی میں مخالفت کا سامنا ہے، اور ایسے میں لیبر پارٹی کے اندر وزیر اعظم کے متبادل کے طور پر شبانہ محمود کے نام پر غور شروع ہو گیا ہے۔
شبانہ محمود اس وقت برطانیہ کی وزیرِ داخلہ (ہوم سیکریٹری) ہیں، میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ حالات بدلنے کی صورت میں وہ برطانیہ کی پہلی مسلم وزیرِ اعظم بن سکتی ہیں۔
برطانوی ایوانوں میں سیاسی دباؤ کی ایک بڑی وجہ امریکا میں سامنے آنے والی ’ایپسٹین فائلز‘ ہیں، ان فائلز میں پیٹر منڈیلسن کا نام آنے سے کیر اسٹارمر پر دباؤ بڑھ گیا ہے، اور لیبر پارٹی کے کئی اراکین پارلیمنٹ اسٹارمر سے ناراض بتائے جا رہے ہیں، لیبر پارٹی اس وقت ہاؤس آف کامنز میں واضح اکثریت رکھتی ہے۔
شبانہ محمود 45 سالہ وکیل اور لیبر پارٹی کی مضبوط رہنما سمجھی جاتی ہیں، وہ کیر اسٹارمر کی قریبی ساتھی اور ایک مؤثر مقرر کے طور پر جانی جاتی ہیں، نظریاتی طور پر انھیں پارٹی کے نسبتاً دائیں بازو سے وابستہ سمجھا جاتا ہے، وہ برمنگھم لیڈی وُڈ سے لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ بنی ہیں۔
شہزادہ ولیم اپنے پہلے سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے
شبانہ محمود کا تعلق پاکستانی نژاد کشمیری خاندان سے ہے، جس کی جڑیں میرپور سے ملتی ہیں، شبانہ نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور بیرسٹر بنیں، وہ 2010 میں پہلی بار پارلیمنٹ پہنچیں اور پہلی مسلم خواتین اراکین میں شامل ہوئیں، اور 2025 میں انہیں برطانیہ کی وزیرِ داخلہ مقرر کیا گیا۔
وہ مسلم اور پرو فلسطین حلقوں تک رسائی رکھنے والی رہنما سمجھی جاتی ہیں، امیگریشن کے معاملے میں ان کی پالیسیاں سخت رہی ہیں، انھوں نے مستقل رہائش کے قوانین مزید سخت کرنے کی حمایت کی ہے۔
شبانہ کے وزیرِ اعظم بننے کے لیے کیر اسٹارمر کا استعفیٰ یا قیادت سے ہٹنا ضروری ہوگا، قیادت کے چیلنج کے لیے کم از کم 81 لیبر اراکین پارلیمنٹ کی حمایت درکار ہے، آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ شبانہ محمود اس موقعے سے کس حد تک فائدہ اٹھا پاتی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


