The news is by your side.

Advertisement

مقبول گیتوں کے خالق اور شاعر شبی فاروقی انتقال کرگئے

نیویارک: 1980 کی دہائی کے مقبول گیت “میں نے تمھاری گاگر سے کبھی پانی پیا تھا” کے خالق شبی فاروقی امریکا میں انتقال کرگئے۔

پاکستانی میوزک انڈسٹری کو ’میں نے تمھاری گاگر سے کبھی پانی پیا تھا پیاسا تھا میں یاد کرو ‘جیسا مقبول گیت دینے والے غزل گو شاعر اور نغمہ نگار شبی فاروقی آج امریکا میں انتقال کرگئے۔ انہوں نے کئی معروف جنگلز بھی تحریر کیے۔ جو آج بھی زبان زد عام ہیں۔

وہ ایک غزل گو شاعر ہی نہیں‌ بہترین نغمہ نگار بھی تھے جو شہرت اور نام و نمود سے ہمیشہ دور رہے۔ شبی فاروقی کے عزیز اور دوست بتاتے ہیں کہ وہ صاف گو اور بذلہ سنج شخصیت کے مالک تھے جو ہمیشہ چھوڑوں کے ساتھ شفقت سے پیش آتے رہے۔

انہوں نے میدانِ سخن میں اپنے ہم عصر شعرا کے درمیان غزل کے شاعر کی حیثیت سے بھی جگہ بنائی۔ ان کا شمار اردو کے نام ور غزل گو شعرا ہوتا ہے۔

شبی فاروقی نے دورِ نوجوانی میں ریڈیو پاکستان کے لیے کام کیا اور  پھر ٹیلی ویژن کی طرف توجہ دی جہاں موسیقی کے کئی پروگرام ان کے کلام سے سجے۔

انہوں نے قومی نغمات بھی لکھے احمد رشدی، محمد افراہیم اور محمد علی شہکی نے بھی شبی فاروقی کے لکھے ہوئے کئی گیت گائے۔ ٹی وی کا ایک بے حد مقبول گیت ’اللہ اللہ کر بھیا، اللہ ہی سے ڈر بھیا‘ بھی شبی فاروقی نے لکھا جسے محمد علی شہکی اور مشہور سندھی لوک فنکار الن فقیرکی آوازوں میں ریکارڈ کیا گیا،

منتخب عزل

اتنا احسان اور کرتا کون،

مجھے سے بڑھ کر مجھے سمجھتا کون،

دین و دنیا سے ماورا تھا میں،

میری باتوں پہ کان دھرتا کون،

میں نہ ہوتا تو یوں لب دریا،

آبرو تشنگی کی رکھتا کون،

جو کسی نے لکھا نہیں وہ حرف،

میں نہ لکھتا تو اور لکھتا کون،

کھوٹ مجھ میں تو سب نے دیکھ لیا،

اپنا سونا مگر پرکھتا کون،

جس کی منزل ہو خواب در بستہ،

اس مسافر کے ساتھ چلتا کون،

آئینہ اپنے روبرو رکھ کر،

میں نہ ہنستا تو مجھ پہ ہنستا کون

Comments

یہ بھی پڑھیں