یہ اقتباس مشہور شاعر شادؔ عارفی پر ماہ نامہ کتاب نما کے خصوصی نمبر (نئی دہلی) سے لیا گیا ہے۔ اس شمارے میں خلیل الرحمٰن اعظمی کا شاد صاحب کے فن و شخصیت پر مضمون شامل ہے۔ اس مضمون میں جہاں وہ شاد صاحب کے ایک مزاج اور عادت کا ذکر کررہے ہیں، وہیں اردو کے عظیم شاعر میر تقی میرؔ سے منسوب ایک شعر کا بھی ذکر نکل آیا ہے۔
میرؔ سے منسوب یہ شعر بہت مشہور ہے، اور اگرچہ ادبی تحقیق اسے میر تقی میرؔ کا شعر نہیں مانتی مگر دوسرے جو نام لیے گئے ہیں، ان پر بھی اختلاف ہے۔ آج بھی اگر انٹرنیٹ پر شعر لکھ کر جاننے کی کوشش کی جائے تو یہ شعر متعدد شعرا سے منسوب ملے گا۔ اسی طرح ایک نام خلیل الرحمٰن اعظمی کے مضمون سے اس اقتباس میں بھی ملتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: شاد صاحب کی ایک اور خصوصیت یہ تھی کہ جلد کسی کو اپنا شاگرد نہیں بناتے تھے۔ بہت خوشامد درآمد سے اگر کسی نوجوان شاعر نے انھیں راضی بھی کر لیا تو اس کی توقعات پوری نہیں ہوتی تھیں اور وہ بھاگ کھڑا ہوتا تھا۔
اصل میں وہ استاد قسم کے شاعروں کے خلاف تھے۔ رام پور کے کئی استاد ایسے تھے جو شاگردوں کو مصرع طرح دے کر یا اساتذہ کی زمینوں میں غزلیں لکھواتے، ان غزلوں پر اس طرح اصلاح دیتے کہ شاگرد کے سب شعروں کا قالب یکسر تبدیل ہو جاتا۔ دس شعر کی غزل ہے تو پانچ شعر استاد نے خود کہہ کر ڈال دیے۔ اگر شاگرد کا شعر مقبول ہو گیا تو اب اعلان کرتے پھر رہے ہیں کہ یہ شعر تو اصل میں میرا ہے جو میں نے اپنے شاگرد کی غزل میں کہہ کر ڈال دیا تھا۔ اس زمانے میں کہیں سے یہ بحث اٹھی کہ ایک شعر میر سے غلط منسوب ہو گیا ہے۔ میر کے دیوان یا کسی تذکرے میں اس کا سراغ نہیں۔
وہ آئے بزم میں اتنا تو میر نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
جب بڑی بحث کے بعد اس شعر کا کوئی دعوے دار نہ ملا تو رام پور کے ایک استاد نے "نگار” میں یہ تھا لکھا کہ یہ شعر دراصل میرا ہے جو میں نے اپنے ایک شاگرد فکر رام پوری کی غزل میں مقطع کی صورت میں کہہ کر شامل کر دیا تھا اور یوں تھا۔
وہ آئے بزم میں اتنا تو فکر نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
اس خط کے جواب میں غالباً رفیق مارہروی نے ایک مضمون لکھا جس میں اس شعر کو طیش مارہروی کی ملکیت بتایا گیا اور کہا گیا کہ ان کی یہ غزل حسرت موہانی کے رسالہ اردوئے معلّٰی میں 1904ء یا 1905ء میں شائع ہوئی تھی۔ شاد صاحب اس طرح کے استادوں کی ذہنیت پر بہت برہم ہوتے تھے۔ ان کے جو لوگ شاگرد ہوتے ان سے وہ شروع ہی میں جتا دیا کرتے تھے کہ جو جی میں آئے لکھو اور جس رنگ میں جی چاہے لکھو۔ میں زبان و بیان کی خامیوں کی طرف اشارہ کر دوں گا۔ درست خود تمھیں کو کرنا ہوگا۔ اگر میں کوئی لفظ تجویز کروں گا تو اس کا ماننا تمھارے لیے ضروری نہیں۔ شاد صاحب کے اس طریقِ کار نے مجھے بہت متاثر کیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


