کراچی(7 مارچ 2026): معروف میزبان اور کامیڈین شفاعت علی نے پیٹرول کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ورک فرام ہوم پالیسی نافذ کرنے کا مشورہ دے دیا۔
سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں شفاعت علی کا کہنا تھا کہ 321 روپے فی لیٹر پیٹرول بیچنے سے کہیں بہتر ہے کہ حکومت تمام دفاتر بند کر دے اور کورونا دور کی طرز پر ‘ورک فرام ہوم’ کی عملداری نافذ کروائے۔
انہوں نے مہنگائی کے مارے طبقے کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ ایک عام آدمی جس کی تنخواہ صرف چالیس ہزار روپے ہو، وہ اپنا گردہ بیچ کر بھی سکول اور دفتر جانے کے لیے موٹر سائیکل کے پیٹرول کے اخراجات پورے نہیں کر سکتا۔
321 روپے کا پیٹرول بیچنے سے بہت بہتر ہے کہ حکومت تمام دفاتر بند کر کے کرونا کی طرح ورک فرام ہوم پہ عملداری نافذ کروائے۔
ایک آدمی جس کی چالیس ہزار تنخواہ ہو وہ اپنا گردہ بیچ کر بھی سکول اور دفتر تک موٹر سائکل کا پیٹرول پورا نہیں کر سکتا۔
ایک لمحے میں پچپن روپے اضافہ ظلم ہے۔— Shafaat Ali (@iamshafaatali) March 6, 2026
معروف میزبان اور کامیڈین شفاعت علی نے پیٹرول کی قیمت میں یکدم 55 روپے کے اضافے کو سراسر ظلم قرار دیتے ہوئے حکومتی پالیسیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


