اتوار, جون 7, 2026
اشتہار

شفیق الرحمٰن:‌ اردو زبان کے صفِ اوّل کے مزاح نگار کا تذکرہ

اشتہار

حیرت انگیز

اردو میں جن ادیبوں اور اہلِ‌ قلم نے اپنی شگفتہ تحریروں اور طنز و مزاح کی بدولت قارئین میں‌ مقبولیت حاصل کی، ان میں بعض اپنی سنجیدہ تحریروں کی وجہ سے بھی ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ شفیق الرحمٰن انہی میں سے ایک ہیں۔ انھیں‌اردو کے صفِ اوّل کے مزاح نگاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مگر وہ ایک عمدہ افسانہ نگار بھی تھے۔ شفیق الرحمٰن سنہ 2000ء میں آج ہی کے روز انتقال کرگئے تھے۔

شفیق الرحمٰن نے 9 نومبر 1920ء کو کلا نور ضلع روہتک میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیمی مراحل طے کرتے ہوئے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، لاہور تک پہنچے اور ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا ادبی سفر قیام پاکستان سے قبل ہی شروع ہوچکا تھا۔ برطانوی دور میں وہ فوج کے شعبۂ طب سے وابستہ ہوگئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انھوں نے فوج میں خدمات انجام دیں اور میجر جنرل کے عہدے تک ترقّی پائی۔ شفیق الرحمٰن لڑکپن اور سیر و سیاحت کے ساتھ کھیلوں کے دلدادہ رہے تھے۔ کرکٹ اور باکسنگ کے علاوہ تیراکی ان کا شوق تھا۔ کارٹون بنانے اور مصوری کے ساتھ انھیں فوٹوگرافی کا بھی شوق تھا۔ اس کے ساتھ ان کے اندر موجود تخلیق کار قلم کے سہارے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کو بیتاب رہتا تھا۔ ابتدائی تحریروں کے بعد جب انھوں نے باقاعدہ افسانہ نگاری اور شگفتہ مضامین لکھے تو خوب حوصلہ افزائی اور پذیرائی بھی ہوئی۔ ڈاکٹر شفیق الرّحمٰن کے افسانوں پر رومانوی رنگ غالب نظر آتا ہے۔ نوجوانی میں ان کی پہلی کتاب کرنیں شایع ہوئی۔ یہ 1938ء کی بات ہے جب وہ میڈیکل کے طالب علم تھے۔ 1942ء میں انڈین میڈیکل سروس سے جڑ گئے اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران مختلف محاذوں پر تعیناتی کے ساتھ انھیں کئی ممالک کی سیر کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران انھیں کئی مختلف قسم کے تجربات ہوئے۔ بحیثیت قلم کار انھوں نے اپنی قوت مشاہدہ سے کام لے کر افسانے اور مضامین تحریر کیے۔ بذلہ سنج اور نکتہ بیں شفیق الرحمٰن نے اپنے سفر اور اس دوران پیش آنے والے واقعات کو بڑی چابک دستی سے شگفتہ اور مزاحیہ انداز میں قارئین تک پہنچایا اور مزاح نگار کے طور پر مقبول ہوئے۔ شفیق الرّحمٰن کے مزاحیہ مضامین کا مجموعہ شگوفے 1943ء میں شایع ہوا اور اسے بہت پسند کیا گیا۔ ستمبر 1979ء میں وہ پاک فوج کی میڈیکل سروسز ریٹائر ہوگئے۔ انھیں علمی اور ادبی حلقوں کے ساتھ قارئین میں اس وقت تک بطور مزاح نگار پہچان مل چکی تھی۔ دسمبر 1980 میں شفیق الرحمٰن کو اکادمی ادبیات پاکستان کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ انھوں نے اپنی زندگی کا یہ حصّہ راولپنڈی میں گزارا۔

مزاح نگار شفیق الرحمٰن کی دیگر کتب لہریں، مدوجزر، پرواز، حماقتیں، پچھتاوے، مزید حماقتیں، دجلہ، کرنیں اور دریچے کے نام سے شایع ہوئیں۔ ان کا ایک ناولٹ اور افسانوں کا مجموعہ بھی شایع ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بحثیت مترجم بھی ان کی کتابیں سامنے آئیں۔ شفیق الرحمٰن نے معاشیات کے مضمون کے ساتھ صحّت و امراض سے متعلق بھی مضامین لکھے تھے جنھیں کتابی شکل دی گئی۔ حکومتِ پاکستان نے بعد از مرگ ان کے لیے ہلالِ امتیاز کا اعلان کیا۔ وہ راولپنڈی کے ایک فوجی قبرستان میں ابدی نیند سو رہے ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں