The news is by your side.

Advertisement

موٹر سائیکل چلانے کے سنہری اصول…

غالباً 38ء میں پیدا ہوئے۔ اگر 37 یا 39ء یا 40ء میں پیدا ہوتے تب بھی کوئی فرق نہ پڑتا۔

سنا ہے کہ بچپن میں ہر بات میں بلا کی تندی و تیزی دکھاتے تھے۔ بزرگ سَر ہلا ہلا کر کہتے یہ لڑکا ضرور کچھ کرے گا۔ جوان ہو کر موٹر ڈرائیور بنے۔ ان دنوں بس ڈرائیور ہیں۔

آپ نے برسوں کے تجربے سے موٹر چلانے کے چند سنہرے اُصول وضع کیے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں۔

1:۔ موٹر ہمیشہ سڑک کے بیچ میں چلاؤ کیونکہ سائیکل والے اور پیدل حضرات جان بوجھ کر سڑک کا درمیانی حصہ استعمال کرتے ہیں۔

2:۔ کسی کو آگے مت نکلنے دو۔ اگر کوئی ہارن بجا بجا کر تنگ کرنے لگے تو دائیں طرف ہو کر کچے راستے کی دھول اس پر ڈالو۔ خود ہی پیچھے ہوجائے گا۔

3:۔ اگر کوئی موٹر آگے جارہی ہو تو اسے اپنی ذاتی توہین سمجھو اور فوراً آگے نکل جاؤ خواہ راستہ ہو یا نہ ہو۔

4:۔ موڑتے وقت گاڑی کی رفتار کم از کم پچاس میل فی گھنٹہ ہونی چاہیے ورنہ موشن ٹوٹ جائے گا اور ناحق گیئر بدلنا پڑے گا۔

5:۔ گیئر بدلنے اور بریک لگانے سے ہمیشہ احتراز کرو۔ اس طرح مشینری گھسنے سے بچ جائے گی۔

6:۔ رات کو سامنے سے گاڑی آرہی ہو تو اللہ کا نام لے کر اس پر روشنی چھوڑ دو۔ یہ دوسرے ڈرائیور کا فرض ہے کہ اپنی موٹر کس طرح بچائے۔

7:۔ یاد رکھو ہر حادثے میں بس ڈرائیور دیسی فلموں کے ہیرو کی طرح صاف بچ جاتا ہے۔چنانچہ حادثے سے پہلے دروازے سے کود جانے کے لیے تیار رہو۔ (ہر ہفتے اس کی ریہرسل کر لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔)

8:۔ رات کو حادثہ کرتے ہی موٹر کی بتیاں بجھا کر پوری رفتار سے بھاگ نکلو تاکہ کسی گاڑی کو نمبر معلوم نہ ہوسکے۔

(مزاح نگار شفیق الرحمٰن کی مضمون مستری رحمت بخش سے)

Comments

یہ بھی پڑھیں