The news is by your side.

Advertisement

2 کروڑ بچے اسکول نہیں جا رہے جو لمحہ فکریہ ہے: وزیر تعلیم

اسلام آباد: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ ملک میں خواندگی کی شرح 58 فیصد ہے اور یہ 60 سے 58 پر آئی ہے، 2 کروڑ بچے اسکول نہیں جا رہے جو لمحہ فکریہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری 70 سالہ تعلیمی کارکردگی پر بہت سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ خواندگی کی شرح 58 فیصد ہے، یہ 60 سے 58 پر آئی ہے، آگے جانے کے بجائے ہم پیچھے گئے ہیں۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ 2 کروڑ بچے اسکول نہیں جا رہے جو لمحہ فکریہ ہے، ہم توجہ دیتے تو خواندگی 100 فیصد ہوتی، ریاست معیاری و یکساں تعلیمی نظام بھی نہیں دے سکی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام کو ملکی ضروریات کے مطابق نہ کر سکے، ہائر ایجوکیشن و پی ایچ ڈیز کو نوکریاں نہیں مل رہیں۔ پرائیوٹ سیکٹر و وفاق المدارس میں بہت بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ ریاست کی کمزوری ہے تعلیم کے مختلف نظام رائج ہوچکے ہیں، پرائیویٹ اسکولز کا انٹرنیشنل لنک کی وجہ سے نصاب الگ ہوگیا۔ کیمبرج سسٹم کی وجہ سے اے لیول اور او لیول کی ڈگریاں دینے لگے۔

انہوں نے کہا کہ مدارس کا نظام تعلیم و سرٹیفکیشن بھی الگ تھا۔ تعلیمی نظام میں یکسانیت نہیں ہوتی تو دنیا کو دیکھنے کا نظریہ مختلف ہوگا۔ مختلف تعلیمی نظام کی وجہ سے قوم میں ذہن تقسیم ہوگئے، تقسیم ذہنوں سے ایک قوم بننے میں مشکل ہوتی ہے۔

شفقت محمود نے مزید کہا کہ سرکاری و کارپوریٹ نظام انگریزی میں چلتا ہے اس لیے انگلش کو فوقیت ملی، اس سے ایک نظام کے لوگ معاشرے میں کامیاب ہونا شروع ہوئے، انگریزی والے ملازمتوں و کارپوریٹ ورلڈ میں کامیاب ٹھہرائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ غریب پیچھے رہ گیا اور امرا کا طبقہ آگے نکل گیا۔ ہم نے یکساں نظام تعلیم کی طرف بڑھنا ہے، چاہتے ہیں قوم میں ایک اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں