The news is by your side.

Advertisement

کیا فضل الرحمان 22 مارچ کو او آئی سی اجلاس سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟

اسلام آباد : وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نےپارلیمنٹ لاجز واقعہ پر سوال کیا ہے کہ کیا فضل الرحمان 22مارچ کواوآئی سی اجلاس سبوتاژکرنےکی کوشش کر رہے ہیں؟

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے سوال کیا کہ کیا فضل الرحمان 22مارچ کواوآئی سی اجلاس سبوتاژکرنےکی کوشش کر رہے ہیں؟ وہ افراتفری پھیلا نےمیں کامیاب نہیں ہوں گے، یہ ایک قابل مذمت کوشش اور کشمیرکاز کو سبوتاژ کرنے کے مترادف  ہے۔

اس سے قبل وفاقی وزرا نے پارلیمنٹ لاجز میں گھسنے والے انصار الاسلام فورس کے رضاکاروں کی رہائی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

ٹوئٹر پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ جمیعت کے غنڈوں نے کان پکڑ کر معافی مانگ لی اور نکل گئے، انہیں نہیں چھوڑنا چاہیئے تھا، اس واقعے سے جعلی دانشور ایک بار پھر ظاہر ہوگئےجو ‘بغض عمران’ میں جتھوں کی بھی حمایت سے باز نہیں آئے، اپوزیشن اور میڈیا میں ان کے حمایتی ایک مخصوص مافیا کا حصہ ہیں جو اپنے مفادات کے کیلئے اکٹھے ہیں۔

معاون خصوسی شہباز گل نے بھی انصار الاسلام کے جتھوں کو رہا کرنے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فضل الرحمان رات بھر ادھر ادھر فون کرتے رہے، معافیاں مانگتے رہے اور کہا کہ میرےبندےچھڑوادیں، میری کچھ عزت رہ جائے گی۔

شہباز گل کا کہنا تھا کہ پھر انہوں نے اپنےبندوں سے معافی منگوائی، مولانا کا ایک ہی رات میں سارا بخار اتر گیا، انہیں چھوڑنانہیں چاہئےتھا۔

واضح رہے انصار الاسلام فورس کو پارلیمنٹ لاجز سے نکالنے کیلئے پولیس نے آپریشن کیا، اس دوران ایم این اےجمال الدین اورصلاح الدین سمیت کئی افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ سینیٹرکامران مرتضیٰ کوحراست میں لینے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔

بعد ازاں مولانا فضل الرحمان نے کارکنان کو پورا ملک بند کرنے ہدایت دے دی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں