The news is by your side.

Advertisement

شاہ عبدالطیف بھٹائی کے 273ویں عرس کی3روزہ تقریبات کا آغاز

بھٹ شاہ : عظیم صوفی بزرگ شاہ عبدالطیف بھٹائی کے عرس کی تین روزہ تقریبات کا آغاز ہوگیا، ملک بھرسے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جبکہ آج سندھ بھر میں عام تعطیل ہے۔

عظیم روحانی بزرگ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے دو سو تہترویں سالانہ عرس کی تین روزہ تقریبات کا آغاز ہوگیا، جس کا افتتاح صوبائی وزیر لائیو اسٹاک جام خان شورو درگاہ شاہ عبد اللطیف بھٹائی پر چادر چڑھاکر کریں گے، ان کے ہمراہ صوبائی وزیر ثقافت سید سردار شاہ اورمحکمہ اوقاف کے مشیر سیدغلام شاہ جیلانی بھی ہوںگے۔

shah-post-2

میلے کی تینوں دن شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام پیش کیا جائے گا، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ،دانشوروں، ادیبوں، شاعروں، فنکاروں اور دیگر شخصیات میں لطیف ایوارڈ تقسیم کرینگے۔

shah-post-3

شاہ کے عرس پر سندھ سمیت ملک بھر سے زائرین اور عقیدت مندوں کی آمد جاری ہے، اس موقعے پر سکیورٹی کے انتظامات سخت کئے گئے ہیں، تین ہزار پولیس اہلکار اور کمانڈوز کے علاوہ رینجرز بھی ہائی الرٹ ہے درگاہ بھٹائی پر واک تھرو گیٹس لگاکر سخت چیکنگ کی جارہی ہے۔

shah-post-1

اس سے قبل پاکستان مشائخ کونسل کی جانب سے بھٹ شاہ درگاہ بھٹائی کے احاطے میں بھٹائی درگاہ کے گدی نشین اور مرکزی رہنما سید وقار حسین شاہ کی میزبانی میں تصوف عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مل بھر کی درگاہوں کے گدی نشینوں نے شرکت کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کے پاکستان کی حفاظت کے لئے کشمیر سے کراچی تک تمام درگاہوں کے اولیائے کرام متحد ہوچکے ہیں اور ملک کے لیئے کسی قسم کی قربانی دینے سے ہرگز گریز نہیں گے۔

انہوں نے کہا کے شاہ عبد اللطیف دنیا کے عظیم صوفی بزرگ اور شاعر ہے انہوں نے درگاہ شاہ نورانی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کے درگاہ کو سیل کرنے والے حکومتی اعلان پر سخت احتجاج کرتے ہیںاور ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کے شاہ نورانی واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے انہیں عبرتناک سزا دی جائے۔

مذکورہ کانفرنس میں چیرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ماروی میمن نے بھی شرکت کی جنہوں نے گدی نشینوں کے ہمراہ درگاہ حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی پہ حاضری دے کر خصوصی دعا کی۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی

شاہ عبداللطیف بھٹائی سندھی زبان کے عظیم صوفی شاعر 18نومبر1689میں مٹیاری کے تعلقہ ہالا میں پیدا ہوئے، والد سید حبیب شاہ کا شمار برگزیدہ ہستیوں میں تھا، دینی تعلیم والد سے حاصل کی، اخوند نور محمد کی مشہور درسگاہ سے تعلیم حاصل کی۔

آپ نے سندھی شاعری سے لوگوں کی اصلاح کی آپ کا کلام شاہ جو رسالو کے نام سے مشہور ہے، شاہ عبداللطیف بھٹائی کا انتقال 63سال کی عمر میں بھٹ شاہ میں ہوا۔

عظیم صوفی بزرگ نے ساری زندگی لوگوں کو انسانیت کا درس دیا، ان کی تصنیف شاہ جو رسالو کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں