The news is by your side.

Advertisement

خورشید شاہ کا آرمی چیف کے توسیع نا لینے کے اعلان کا خیرمقدم

اسلام آباد: اپوزیشن لیڈرخورشید نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظرکہ آرمی چیف کا فیصلہ تاریخی اہمیت کا حامل ہوگا۔

پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ ماضی میں جنرلزکی جانب سے اقتدار پر قبضہ کرنے کی روایت برقرار رہی لیکن موجودہ آرمی چیف نے مدت ملازمت میں توسیع نہ لے کر ان روایات اور تمام افواہوں کا خاتمہ کردیا۔

سابق آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کومدت ملازمت میں توسیع دیئے جانے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں خورشید شاہ نے کہا کہ سابق آرمی چیف کو توسیع دینے کا فیصلہ حکومت کا تھا یا انہوں نے خود توسیع مانگی اس بارے میں نہیں جانتا، بہترہوگا کہ یہ سوال اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے پوچھا جائے۔

اس موقع پر خورشید شاہ نے نیشنل ایکشن پلان اور باچا کان یونیورسٹی پر حالیہ حملے سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے چوہدری نثار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا،انہوں نے کہا کہ باچا خان یونیورسٹی حملے پروینا ملک سے لے کر نریندرمودی تک سب نے مذمت کی لیکن اگرکسی نے مذمت نہیں کی تو وہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی ہیں، ملک کا وزیر داخلہ کیسے کسی حملے پرخاموش بیٹھا رہ سکتا ہے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ میٹرو منصوبہ مکمل ہو گیا لیکن نیکٹا کی ویب سائٹ تا حال نہیں بن سکی قوم سوال کرے گی کہ نیشنل ایکشن پلان پرکتنا عمل درآمد ہوا۔

خورشید شاہ نے سوال اٹھایا کہ نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد نہ ہونے پرذمہ داری کون لے گا؟ وزیراعظم یا چوہدری نثار،،،،خورشید شاہ نے حکومت سے سوال کیا کہ مولانا مسعود اظہر کو کس لئے زیر حراست رکھا گیا اس کے کیا محرکات ہیں؟ جبکہ مولانا عبدالعزیز کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود ان کے خلاف کاروائی سے حکومت کیوں گریزاں ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں