The news is by your side.

Advertisement

ایسا لگ رہا ہے کہ بھارت میں ایک نئی سوچ پروان چڑھ رہی ہے: شاہ محمود قریشی

اسلام آباد: وزیر خارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی نے روس کے ساتھ قربتیں بڑھنے کا اعتراف کر لیا، انھوں نے بتایا کہ ولادی میر پیوٹن کے دورہ پاکستان سے متعلق تیاریاں کر رہے ہیں، چینی صدر شی جِنپنگ کو بھی دورہ پاکستان کی دعوت دے دی ہے، بھارت اب افغان طالبان سے رابطے کیوں کر رہا ہے، یہ قابل غور ہے، دوسری طرف کشمیر کے حوالے سے ایسا لگ رہا ہے کہ بھارت میں ایک نئی سوچ پروان چڑھ رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام دی رپورٹرز میں کیا، وزیر خارجہ نے کہا میری اطلاع کے مطابق بھارتی حکام کی افغان طالبان سے ملاقات نہیں ہوئی، تاہم بھارتی وزیر خارجہ نے ملاقات کی کوشش ضرور کی ہے، افغان طالبان اور بھارتی حکام کی ملاقات کی کوئی اطلاعات نہیں، لیکن قابل غور بات ہے کہ بھارتی حکام افغان طالبان سے کیوں ملنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا ترکی میں افغان حکام سے 3 اہم ملاقاتیں ہوئیں، جن سے اندازہ ہوا کہ افغانستان میں ایک گھبراہٹ ہے، کیوں کہ افغانستان سے اتحادی افواج کا انخلا تیزی سے ہو رہا ہے، گھبراہٹ یہ بھی ہے کہ امن مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہیں، اور افغان امن مذاکرات میں پیش رفت ہماری خواہش کے مطابق نہیں ہو رہی، وجہ یہ ہے کہ افغان حکام کی سوچ میں مجھے یکسوئی نہیں دکھائی دے رہی، دوسرا فریق ایسی صورت حال دیکھےگا تو یقیناً وہ بھی مذاکرات سے پیچھے ہٹے گا۔

وزیر خارجہ نے کہا دیکھنا ہوگا افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات آگے بڑھتے ہیں یا نہیں، افغان امن مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہوتی تو پھر خانہ جنگی کا خطرہ ہے، ہم افغان حکومت کی مدد کرنا چاہتے ہیں، ہماری ایسی سوچ نہیں کہ افغانستان کو پختون اور نان پختون میں تقسیم کیا جائے، افغان امن مذاکرات میں پیش رفت سے افغان حکومت اور عوام کو فائدہ ہوگا۔

شاہ محمود نے بتایا کہ چینی صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی گئی ہے، اس دورے سے متعلق ہماری تیاریاں جاری ہیں، کرونا کی صورت حال واضح ہونے کے بعد حتمی فیصلہ ہوگا، یہ بھی درست ہے کہ روس کے ساتھ بھی قربتیں بڑھ رہی ہیں، پاکستان، ایران، روس گیس پائپ لائن معاہدہ ہو گیا ہے، اس کی گراؤنڈ بریکنگ تقریب کے لیے بھی تیاریاں جاری ہیں، روس اور پاکستان دونوں جگہوں پر بہترین تقریب ہوگی۔ ترکی کے دورے کے موقع پر روسی وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی تھی، روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے دورہ پاکستان سے متعلق بھی تیاریاں کر رہے ہیں۔

انھوں نے بھارتی حکومت کی 24 اگست کی اے پی سی کی دعوت کو غیر معمولی پیش رفت قرار دیا، شاہ محمود نے کہا ایسا لگ رہا ہے کہ بھارت میں ایک نئی سوچ پروان چڑھ رہی ہے، اس کی کشمیر پالیسی بری طرح ناکام ہو چکی ہے، اے پی سی ہونے دیں پھر صورت حال واضح ہو جائے گی، اللہ پاکستان پر کرم فرما رہا ہے، جو ہم کہتے تھے آج بھارت میں سے آوازیں آ رہی ہیں، پاکستان میں بہت لوگ تنقید کرتے تھے کہ دفتر خارجہ کیا کر رہا ہے، لیکن 5 اگست کے بھارتی حکومت کے اقدامات بھارتی عوام مسترد کر رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں