The news is by your side.

Advertisement

عالمی اداروں کے قرضے ری شیڈول کروانا چاہتے ہیں: وزیر خارجہ

ملتان: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے 2 سب کمیٹیاں تشکیل دی ہیں، ایک کمیٹی میری سربراہی میں عالمی سطح پر رابطوں میں مصروف ہے، دوسری سب کمیٹی اسد عمر کی سربراہی میں لاک ڈاؤن اور فوڈ سپلائی کا جائزہ لے رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت کرونا وائرس اور انصاف امداد پیکج پر اجلاس ہوا، اس موقع پر وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت کرونا وائرس کی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے، اس مقصد کے لیے خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے 2 سب کمیٹیاں تشکیل دی ہیں، میری سربراہی میں قائم کمیٹی عالمی سطح پر رابطوں میں مصروف ہے۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشین بینک کے قرضے ری شیڈول کروانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ رقم کرونا وائرس سے پیدا بحران کی وجہ سے صحت پر خرچ ہوگی۔ حکومت پورپی یونین، جی 77 اور جی 20 ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے میں ہے۔ ایران پر پابندیاں ختم کروانے کے لیے بھی پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے، پابندیوں کی وجہ سے ایران رقم ہونے کے باوجود وینٹی لیٹر نہیں خرید سکتا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بیرون ملک پاکستانیوں سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں، دوسری سب کمیٹی اسد عمر کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے۔ یہ کمیٹی لاک ڈاؤن اور فوڈ سپلائی کا جائزہ لے رہی ہے، مکمل لاک ڈاون کے لیے تیاری کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ چین نے ووہان میں 6 کروڑ لوگوں کو لاک ڈاؤن کیا، ووہان میں آن لائن فوڈ سپلائی کے 45 ہزار ورکرز کو موبلائز کیا گیا۔ مکمل لاک ڈاؤن میں کھانا راشن گھروں میں پہنچانا ہوگا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ گندم کی فصل تیار ہے، کٹائی اور خریداری کا عمل سر پر ہے۔ پنجاب کا سب سے بڑا اور مؤثر قرنطینہ ملتان میں قائم ہے۔ کرونا ریلیف ٹائیگر فورس پر پہلا اجلاس بھی ملتان میں ہو رہا ہے۔ مربوط رابطہ کار پر کرونا ٹائیگر فورس کی کامیابی کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر یونین کونسل 6 وارڈز پر مشتمل ہے، ہر وارڈ میں 13 رکنی ٹائیگر فورس بنائی جائے گی۔ ٹائیگر فورس کے جوان گھر گھر رجسٹریشن کریں گے۔ فورس کے رضا کاروں اور غریب طبقے کی لسٹیں ضلعی انتظامیہ کو دی جائیں گی۔ وزیر اعظم نے مشکل حالات کے باوجود 1200 ارب کا تاریخی ریلیف پیکج دیا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں