The news is by your side.

Advertisement

’داسو ڈیم واقعے میں افغانستان کی سرزمین کو استعمال کیا گیا‘

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ داسو ڈیم واقعے میں افغانستان کی سرزمین کو استعمال کیا گیا، تخریب کاری میں را اور این ڈی ایس کا گٹھ جوڑ دکھائی دے رہا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری اور باہمی تعاون ان کو ہضم نہیں ہورہا، الحمدللہ ان کے عزائم جو بھی تھے وہ جو چاہتے تھے وہ حاصل نہ کرسکے، واقعے کے بعد پاکستان اور چین کی جانب سے نئے عزم کا اظہار کیا گیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے اس کا مقابلہ کرنا ہے اور کررہے ہیں، چین بھی گیا، اسٹرٹیجک کے ساتھ واقعے پر بات ہوئی، چین ہمیں مطمئن دکھائی دیا، ان کے مطابق پاکستان نے ان کو اعتماد میں رکھا، چینی وزیر خارجہ اور میں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی اور واقعے کی مذمت کی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان حکام کو بلانے اور معلومات شیئر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، افغان حکام سے مطلوب افراد کی حوالگی کا مطالبہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب ڈی آئی جی سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا جاوید اقبال نے کہا کہ تفیتش میں انٹیلی جنس ایجنسیز ساتھ رہیں، کرائم سین سے وقوعہ میں استعمال گاڑی کے حصے ملے، ملوث ملزم کی ایک انگلی بھی جائے وقوعہ سے ملی۔

انہوں نے بتایا کہ راستے تک لگے تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج لی گئی، 500 جی بی پر مشتمل ویڈیو کا ڈیٹا حاصل کیا گیا، ہم نے جائے وقوعہ سے ملے موبائل فونز کا بھی ڈیٹا لیا، جائے وقوعہ سے زیر حراست 90 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔

جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ گاڑی پر لگے اسٹیکر کی مدد سے تلاش شروع کی تو شوروم کا پتہ چلا، گاڑی 6 ماہ قبل ڈیلر کے پاس اور اس سے پہلے افغانستان سے آئی تھی۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے پی کا کہنا تھا کہ ہم نے تمام ڈیٹا بیسز چیک کیے اور کراچی سے ایک مشکوک شخص کو گرفتار کیا، 7 جولائی کو گاڑی کراچی سے گرفتار ملزم نے کسی اور کے حوالے کی، گاڑی طارق نامی شخص نے لی جو افغانستان سے تخریب کاری کے لیے آیا تھا، ملزم طارق کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی سے تھا۔

جاوید اقبال کے مطابق ہینڈلرز ایاز اور حسین سے مزید تین ملزمان کا پتا چلا جنہوں نے پلاننگ کی تھی، افغانستان میں تین ملزمان کو این ڈی ایس اور را ٹریننگ دے رہے تھے، خالد عرف شیرپاکستانی شہری نہیں ہے، واقعے سے متعلق مطلوب لوگوں کے لیے افغان حکومت سے رابطہ کررہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں