The news is by your side.

Advertisement

حقانی وزیراعظم گیلانی کو بھی رپورٹ نہیں‌ کرتے تھے، قریشی کا انکشاف

اسلام آباد: سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حسین حقانی ویزا کے معاملات میں وزیراعظم گیلانی اور مجھ سمیت کسی کو رپورٹ نہیں کرتے تھے اور ان کے ایوان صدر سے براہ راست رابطے تھے۔

یہ بات انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں شرکت کے دوران میزبان ارشد شریف سے بات کرتے ہوئے کہی۔ پروگرام میں ن لیگ کے رہنما انور بیگ اور تجزیہ کار میجر جنرل اعجاز اعوان بھی موجود تھے۔

خیال رہے کہ جس وقت حسین حقانی امریکا میں پاکستانی سفیر تعینات تھے اس وقت شاہ محمود قریشی پیپلز پارٹی میں شامل  تھے اور اس وقت وزیر خارجہ کے عہدے پر تعینات تھے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حسین حقانی دفتر خارجہ سے بھی بڑے تھے اور وہ کسی کو رپورٹ نہیں کرتے تھے، اگر میں یہ کہنے کی جسارت کروں کہ وہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی رپورٹ نہیں کرتے تھے تو غلط نہ ہوگا، ان کے ایوان صدر سے براہ راست رابطے تھے،حقانی کے براہ راست رابطوں پروزارت خارجہ میں بھی بے چینی تھی۔

انہوں ںے کہا کہ حسین حقانی کے چوںکہ براہ راست رابطے تھے اس لیے وزارت خارجہ میں موجود امریکی ڈیسک ذہنی تناؤ کا شکار تھی کہ انہیں حقانی بائی پاس کرکے ایسے احکامات لاگو کرادیتے ہیں جن کا پہلے سے علم نہیں ہوتا تھا۔

شاہ محمود قریشی نے انکشاف کیا کہ حسین حقانی کو دو ملین ڈالر کی خطیر رقم پاکستان کے لیے لابنگ کرنے کی مد میں دی گئی، انہیں یہ رقم آصف زرداری کے کہنے پر دی گئی۔

دفتر خاجہ کی جانب سے 36 افراد پر سی آئی اے افسران ہونے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے انہیں ویزا جاری نہ کرنے کا انتباہ کیا گیا تھا، اس خط کے بارے میں سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ خط میرے علم میں نہیں تھا اور نہ میری مشاورت سے لکھا گیا، سوال یہ ہے کہ ایس او پیز ہوتے ہوئے اس خط کو لکھنے کی ضرورت پیش کیوں آئی؟

حقانی کو امریکی سفیر بناتے وقت انٹیلی جنس سیکیورٹی کلیئرنس کیسے ملی؟

مسلم لیگ کے رہنما انور بیگ نے ایک سوال پر کہا کہ کسے نہیں پتا کہ حسین حقانی کا سیاسی پس منظر کیا ہے؟ حقانی نے ن لیگ اور پی پی کے ساتھ ماضی میں کیا کیا؟ جب بھی کسی سفیر کو لگایا جاتا ہے کہ انٹیلی جنس اس کی کلیئرنس دیتی ہے؟ حقانی کو کیسے کلیئرنس مل گئی؟ اور وہ بھی امریکی سفیر جیسے حساس عہدے پر؟؟

حقانی کبھی وطن واپس نہیں آئے گا، ایشو پر وقت ضائع نہ کیا جائے

انہوں نے کہا کہ حقانی کے معاملے پر بحث کرکے وقت ضائع کیا جارہا ہے، جنرل صاحب کہتے ہیں ٹرائل کرو، اب تو مٹی ڈالی جائے اس معاملے پر، حقانی کبھی وطن واپس نہیں آئے گا۔

حقانی کو باہر جانے کی اجازت کس نے دی؟ ٹرائل کیا جائے

انہوں نے سوال اٹھایا کہ حقانی کو باہر جانے کی اجازت کس نے دی؟ اگر پاگل خانے میں موجود مریض سے بھی  پوچھا جائے کہ حقانی کو باہر جانیں دے تو کیا وہ واپس آجائے گا؟ تو پاگل بھی کہے گا کہ وہ واپس نہیں آئے گا اور اسے جانے دیا گیا،جس نے اجازت دی اس کا ٹرائل کیا جائے، اس معاملے پر بحث کرنے کے بجائے نئے ایشو پر بات کریں۔

میموگیٹ اسکینڈل کو مذاق بنادیا گیا،میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان

میمو کمیشن سے پوچھے گئے ایک سوال پر پروگرام میں شریک تجزیہ کار میجر جنرل(ر) اعجاز اعوان نے کہا کہ  جس طریقے سے میمو گیٹ اسکینڈل کو چھوڑ دیا گیا اس سے لگتا ہے کہ اسے مذاق بنا دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اُس کیس میں اُس وقت کے 4 طاقت ور ترین افراد پر الزام آیا تھا، پہلی بار کسی آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے سپریم کورٹ میں بیان حلفی جمع کرایا، ثابت ہوا کہ ان کا اس وقت فیصلہ اور لگائے گئے الزامات درست تھے جسا کہ  آج بھی ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کیس میں شامل چاروں افراد کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالت جائیں، اس کیس کو دوبارہ کھلوا کر اسی جج کی عدالت میں لے جائیں، ٹوئٹ کرنے یا بیان دینے سے مدعا ختم نہیں ہوتا، اس غدار کا ٹرائل کرایں۔

مکمل پروگرام کی ویڈیو:

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں