The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کا او آئی سی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: پاکستان نے آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن (او آئی سی) کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت او آئی سی کا رکن ہے نہ مبصر، درخواست کی تھی کہ بھارتی وزیر خارجہ کو بلانے کے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز موجودہ صورتحال پر اپوزیشن کا مؤقف واضح ہے، آج او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ او آئی سی کے جنرل سیکریٹری نے صورتحال واضح کی، جنرل سیکریٹری نے بتایا کہ سثما سوراج کو دعوت پلوامہ واقعے سے پہلے دی۔متحدہ عرب امارات نے مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن (او آئی سی) کا رکن ہے نہ مبصر، ہم نے درخواست کی کہ او آئی سی کا اجلاس مؤخر کر دیا جائے۔ درخواستکی کہ بھارتی وزیر خارجہ کو بلانے کے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ او آئی سی سے سشما سوراج کو اجلاس میں شرکت کی دعوت پر تحفظات ظاہر کیے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کل کی صورتحال کے بعد میں نے ایک اور خط لکھا ہے، 26 فروری کو بھارتی وزیر خارجہ کو مدعو کرنے پر بھی خط لکھا تھا۔ ایک بار پھر سشما سوراج کو دعوت نامہ واپس لینے کی درخواست کی، بتایا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو میرا اجلاس میں شرکت کرنا ممکن نہ ہوگا، ’میں او آئی سی کے وزارئے خارجہ کے اجلاس میں شرکت نہیں کروں گا‘۔

انہوں نے کہا کہ میں نے سفارت کاروں کو دباؤ کم کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کا کہا ہے، بھارت میں 21 اپوزیشن جماعتوں نے مودی کے خلاف مؤقف دیا، بھارتی اپوزیشن نے کہا کہ مودی اپنی سیاست کے لیے یہ سب کر رہے ہیں۔ سشی تھرور نے کہا بی جے پی حکومت کا وژن ہمارے بانی رہنماؤں کے خلاف ہے، بی جے پی کا وژن ہے بھارت کے قیام کے بنیادی وژن اور آئین کو بدلا جائے‘۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے کہا ہے کہ وہ ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، یو این سیکریٹری جنرل کو دعوت دیتا ہوں پاکستان آئیں اور صورتحال دیکھیں۔ روس سے کہتا ہوں ہم بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کہا تھا ہم جذبہ خیر سگالی کے تحت بھارتی پائلٹ کو رہا کریں گے، آج بھارتی پائلٹ کو رہا کر دیا جائے گا۔ روسی وزیر خارجہ نے گزشتہ روز دونوں ممالک میں ثالثی کی پیشکش کی تھی، پاکستان روس کی ثالثی کی پیشکش کو قبول کرتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں