The news is by your side.

Advertisement

نئی حکومت کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے: وزیر خارجہ

لندن: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، ہم نیب کو نہیں بتا سکتے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ نیب کو جو درست لگے گا وہ وہی کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی ہم منصب جیرمی ہنٹ کی دعوت پر دورہ برطانیہ کر رہا ہوں، جیرمی ہنٹ سے پہلی باقاعدہ ملاقات کل ہوگی۔ گزشتہ روز برطانوی وزیر داخلہ سے ملاقات ہوئی تھی۔ لندن میں مختلف شخصیات سے ملاقاتیں مفید رہیں۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ نئی حکومت کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ نیب خود مختار ادارہ ہے۔ نواز شریف اور آصف زرداری نے اپنے ادوار میں مقدمات بنائے۔ حکومت نے معاشی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ جب ہماری حکومت آئی تو پاکستان گرے لسٹ میں جا چکا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں نیب اور عدلیہ آزاد ہیں۔ ہم نے کسی کو نہیں کہا کہ احتساب صرف اپوزیشن کا کرنا ہے۔ نیب چیئرمین بار بار کہہ چکے ہیں ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ نیب پر کوئی قدغن نہیں، وہ حکومتی وزرا کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے، ہم نیب کو نہیں بتا سکتے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ نیب کو جو درست لگے گا وہ کرے گا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مغرب چاہتا ہے پاکستان میں پھانسی کی سزا نہ ہو، معاملہ کابینہ میں لے جائیں گے تاکہ کوئی قانونی راستہ نکالا جا سکے۔ لاہور میں فرانزک لیبارٹری بننے سے جرائم کے خاتمے میں فائدہ ہوا۔ سعودی عرب سے تعلقات میں بہتری آئی۔ سی پیک فیز ٹو میں چین کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کی ہے۔ بشکک میں وزیر اعظم عمران خان کا گرمجوشی سے استقبال ہوا۔ ناقدین کی تنقید کے باوجود بشکک میں وزیر اعظم کو پروٹوکول ملا۔ بھارتی وزیر اعظم ایک کونے میں دکھائی دے رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے از خود ایئر اسپیس کے استعمال کے لیے درخواست کی، ہم نے بھارت کو ایئر اسپیس استعمال کرنے کی اجازت دی، ہماری طرف سے ایئر اسپیس دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں تھی۔ بھارت نے انتہا پسندوں کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہیں تو یہ ان کا فیصلہ ہے۔

پاک بھارت میچ کے بارے میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کرکٹ میچ کے نتیجے سے مایوسی ہوئی، ہار جیت کھیل کا حصہ ہے اس کا کوئی افسوس نہیں۔ کرکٹ میچ میں مقابلہ ہونا چاہیئے تھا مگر میچ یکطرفہ نظر آیا۔ عمران خان کا خیال تھا ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کرنی چاہیئے، قومی ٹیم کے کپتان نے وزیر اعظم کے مؤقف کے برعکس فیصلہ کیا۔ کرکٹ بورڈ کو مستقبل میں بہتری کے لیے منصوبہ بندی کرنی چاہیئے۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ نہیں چاہتے ہماری سرزمین بھارت سمیت کسی کے خلاف استعمال ہو، ہم دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد کا حصہ ہیں۔ بھارت سے تقاضہ کیا تھا پلوامہ حملے پر شواہد مہیا کیے جائیں۔ بھارت نے تعاون کے بجائے ماحول کو بگاڑا۔ بیرونی طاقتوں کو صورتحال معمول پر لانے کے لیے کردار ادا کرنا پڑا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں