The news is by your side.

Advertisement

حکومت خوفزدہ ہے‘ 2017 میں عام انتخابات ہوسکتے ہیں: شاہ محمود قریشی

کراچی: پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاناما کیس جس سمت میں جارہا ہے‘ 2017 عام انتخابات کا سال ثابت ہوسکتا ہے۔

اے آروائی نیوزسے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم سبزپاسپورٹ کی قدروقیمت چاہتے ہیں اوراس کے لیے تحریک انصاف سڑکوں پرعوامی عدالت میں آتی رہے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت پانامہ کیس کے نتائج سے خوفزدہ ہے اوراسی لیے وہ آئے دن جلسے کررہے ہیں۔


 شاہ محمود قریشی جون 1956 کو پیداہوئے‘ ان کا تعلق ملتان کے ایک بااثر، جاگیردار اورروحانی خاندان سے ہے۔انہوں نے ایچی سن اورفورمین کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری  بھی حاصل کی۔

مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنی سیاست کا آغازسن 1985 میں مسلم لیگ ن کے ساتھ کیا۔ وہ  موجودہ وزیراعظم نوازشریف کے  قریبی ساتھی تھے۔1990 ممیں انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیارکی اورپیپلز پارٹی اوران کا ساتھ 2011 تک قائم رہاجس کے بعد شاہ محمود قریشی نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔

مذکورہ بالا دونوں جماعتوں سے وابستگی کے دوران وہ اہم عہدوں پر فائز رہے۔

shah-mehmood-post-1

شاہ  محمود قریشی تین بار1985، 1988 اور1990 میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ وہ صوبائی وزیرِ خزانہ کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

بعد میں انہوں نے پی پی پی میں شمولیت اختیار کی اور سن1993 میں رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد، بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ وزارت عظمی میں بطور وزیرِ مملکت برائے پارلیمانی امورکی حیثیت سے کابینہ کا حصہ بنے۔

سن1997 کے انتخابات میں انہیں اُس وقت کے مسلم لیگ ن کے امیدوار اور روایتی حریف جاوید ہاشمی نے شکست دی۔ سن دو ہزار دو کے عام انتخابات میں قریشی اُسی نشست پر ایک مرتبہ پھر رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

شاہ محمود قریشی ملتان کے ضلع ناظم بھی رہے لیکن سن دو ہزارسات کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے لیے انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔


اے آروائی نیوز : پانامه کیس  پرتحر یک انصاف اپنی جیت کے لئے کس حد تک پرامید ہے ؟

شاہ محمود قریشی: ہم تو روز اول سے اپنی جیت کے لئے پرامید ہیں۔ اب تو برطانوی خبر رساں ادارے (بی بی سی)  کی رپورٹ بھی آ گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں که وہ دن بہت قریب ہے کہ جب ہم عوام کو جیت کی نوید سنا ئیں گے۔

اے آروائی نیوز:  سپریم کورٹ تو اخباری تراشوں کو بطور ثبوت تسلیم نہیں کررہی ہے؟۔

شاہ محمود قریشی : نہیں‘ نہیں! ایسا نہیں ہے۔ معززعدالت کا کہنا ہے کہ بے سروپا باتوں‘ من گھڑت خبراوربنا تحقیق کے کوئی بات ‘خبریا دلیل قابل قبول نہیں ہوگی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے وکیل کے دلا ئل اتنے ٹھوس ہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ انشاء اللّه عوام کی جیت دورنہیں ہے۔

shah-mehmood-post-3

اےآروائی نیوز : آج کل میا ں صاحب جلسوں سے بہت خطاب کر رہے ہیں کیا یہ عام انتخابات کی تیاری ہے جبکہ وہ 2018 میں ہیں. جنرل الیکشن کے سلسلے میں تحریک انصاف کی کیا تیاریاں ہیں؟۔

شاہ محمود قریشی : یہ ہی تو نا! میاں صاحب کو پانامہ کیس میں اپنی شکست کا خوف ہے۔ وہ اس لئے اپنی سی کوشش کررہے ہیں۔ جس تیزی سے تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں‘ میں سمجھتا ہو ں کہ 2017 بھی جنرل الیکشن کا سال ہوسکتا ہے۔ پاکستان تحر یک انصاف ملک کو لوٹنے والوں کو جکڑ کے رکھے گی۔ ہم پاکستان کو کرپشن فری کرنے کے لیے  کمربستہ ہیں۔ عوام ہم پرا عتما د کرتے ہیں لہذاانصاف کی انشاء اللہ جیت ہوگی۔

اے آر وائی نیوز :شاہ صاحب! آ پ پانامہ کیس پراپنی جیت کے لئے پرامید ہیں، مگر سر براہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید صاحب کا کہنا ہے که میں عمران خان کے ساتھ ایک اور دهرنا دینے کو تیار ہوں.  آپ جیت کے لیے پرامید اورشیخ صاحب دهرنے کی تیاری میں  ہیں، یہ کیا بات ہوئی؟۔

شاہ محمود قریشی : دیکھیں! دھرنا یا عوامی احتجاج کا سلسلہ تو تحر یک انصاف پہلے دن سے کررہی ہے. ہم تو پہلے دن سے سٹرک پر ہیں. پہلے عام انتخا بات میں دھاندلی پرسراپا احتجاج تھے۔ ہم نے الیکشن کمیشن میں ریفارم اورشفاف انتخابات کے لئے عوامی تعاون سے 126 دن کا دھرنا دیا. پھرپانامہ انکشافات پرہم سٹرکوں پرآئے‘ پھرسپریم کورٹ نے اس حوالے سے سوموٹو ایکشن لیا. ہم عدالت میں چلے گے اور وہاں عوام کا مقد مہ ل رہے ہیں. مگر اس کے ساتھ ہم عوام کی عدالت میں بھی حاضر ہونا چا ہتے ہیں. کیونکہ ہم کرپشن فری پاکستان چاہتے. یہ ہمارے منشور میں شامل ہے. ہم سبز پاسپورٹ کی قدر و قیمت چا ہتے ہیں. ہماری خواہش ہے کہ بیرون ملک سرمایہ دار پاکستان آئیں۔ پاکستان کو کرپشن فری اورعوام کو اس کا حق دلانے کے لئے پاکستان تحریک انصاف سٹرکوں پرآ تی رہے گی۔

اے آر وائی نیوز: الیکشن کیمشن کے حوالے سے بھی تو تحر یک انصاف نے پر یکٹس کی تھی. اس میں آپ کو کتنی کامیابی نصیب ہوئی؟۔

شاہ محمود قریشی : ہمارے تین انتہائی زیرک سینئر ارکان نے یہ اہم کام سرانجام دیا ہے. شیر ی مزاری صاحبہ‘ عا رف علوی اور شفقت قریشی صاحب نے الیکشن کیمشن میں ریفارم کے حو الے سے اہم پوائنٹس متعلقہ ادارے میں بھیج دیئے ہیں. ہم سمجھتے ہیں کہ ں آئندہ انتخابات میں الیکشن کیمشن ہماری تجاویزپرعمل کرے گا۔

اے آر وائی نیوز : شاہ جی ، آپ وزیر خا ر جہ ره چکے ہیں،  جب ملک کا فل وقتی وزیرخا رجہ نہ ہو اور اس کی جگہ مشیر سے کام چلایا جائے تو خارجہ امورپرکیا اثرات پڑتے ہیں؟۔

شاہ محمود قریشی: وزیرخارجہ اپنے ملک کا مقدمہ بہترطریقے سے انٹرنیشنل فارم پرلڑسکتا ہے۔ ڈپلومیسی کا ایک پروٹوکول ہوتا ہے۔ مشیر کا رتبہ وزیرکے برابر نہیں ہوتااس سے ملک کو disadvantages ۔کا سامنا کرنا پڑتا ہے

shah-mehmood-post-2

اے آروائی نیوز : 39 مسلم اتحاد میں شمولیت اختیار کرنے سے پاکستان کی خا رجہ پا لیسی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ؟۔

شاہ محمود قریشی: دیکھیں پہلی بات تو یہ ہے کہ اس سارے معا ملے کو کس نے متناز عہ بنایا ! خواجہ آصف صاحب جو اتنے سمجھدارانسان ہیں ، کیا ان کو یہ بیان زیب دیتا تھا جو انہوں نے ٹی وی چینل پربیان دیا اورپھرسینٹ میں جا کربالکل برعکس تقریرکی مشیرخارجہ سرتاج عزیزکے مطا بق فی الحال سعودی حکومت سے اس قسم کی آفرآئی ہی نہیں ہے۔ وزیر دفاع نے ایک سنی سنائی بات پراتنی حسا س نوعیت کا بیان دیدیا جو یقیناًغیرذمہ دارانہ اقدام ہے۔

اب جہاں تک بات ہے ، اس اتحاد سے پاکستان کی خا رجہ پا لیسی پرکیا اثرات مرتب ہو گے تو اس کے لئے سب سے پہلے حکومت نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس اتحاد کا حصہ بنے گی بھی یا نہیں۔ ابھی حکومت پاکستان کی پالیسی اس سلسلے میں واضح نہیں ہے کہ آ یا وہ اس میں شا مل ہونا چاہتے ہیں یا نہیں۔ یہ تو ہوگئی ایک بات‘ دوسری نکتہ یہ ہے کہ اس اتحاد کے کیا مقا صد ہیں؟ اس کا تفصیلی جا ئزہ لینا ضروری ہے۔ پھرپارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا بہت ضروری ہے۔ پاکستان کی نیشنل لیڈرشپ کو آ ن بورڈ لینا چا ہیے تاکہ ہم مسلم امہ کو یکجا کرسکیں.۔ کچھ قوتیں مسلم امہ کی تقسیم چا ہتی ہیں. کچھ قو تیں پاکستان میں فرقہ وا رانہ فسا د کرانا چا ہتی ہیں۔ سعودی عرب اورایران سے ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک سے بہترتعلقات رکھنا پاکستان کے حق میں ہے۔ ہمیں کوئی بھی فیصلہ بہت سوچ سمجھ کرکرنا ہے۔ اس میں ہمیں ہرگزیہ تا ثرنہیں دینا چا ہیے کہ اقوامِ عا لم کو یہ پیغام جائے کہ پاکستان کے دفاعی اورسو ل ادارے ایک پیج پرنہیں ہیں۔ ہمیں جلد بازی میں بیا نات دینے کے بجا ئے ، سوچ بچار سے کام لینا ہو گا۔

اے آر وائی نیوز:  آپ پیپلزپارٹی سے طویل عرصے تک وابستہ رہے ہیں ، اپنے تجربے کی روشنی میں زرداری صاحب کی آمد اور خاموشی پر کیا کہیں گے ؟۔

شاہ محمود قریشی : معنی خیزخا موشی ہے!  دیکھیں اس وقت پیپلز پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہے۔ پیپلزپارٹی میں دو سوچیں پنپ رہی ہیں۔ ایک کی نمائندگی کررہے ہیں بلاول صاحب ، ا عتزاز احسن صاحب ، قمر زمان کائره اورندیم افضل چن سمیت دیگرلوگ جبکہ دوسری سوچ ہے یوسف گیلانی اور راجہ پرویز اشرف جیسے لوگوں پر مشتمل افراد کی جو مصلحت پسندی کی سوچ رکھتے ہیں. ایسے لوگوں کی کرپشن اورغلط حکمت علمی کی وجہ سے پیپلز پارٹی نے پہلے بھی نقصان ا ٹھایا ، وہ اب بھی اس قسم کی سیاست کرنے کے خواہش مند ہیں۔ یہ سوچ بلاول کے ہاتھ باندھناچاہتی ہے جبکہ بلاول عوام میں آ نا چا ہتے ہیں۔ لیکن مک مکا کی سیاست کی سوچ ایسا نہیں چا ہتی ہے اب فیصلہ بلاول نے کرنا ہے وہ کس طرح سے عوام تک آئے۔

اے  آر وائی نیوز: آ ئندہ عا م انتخابات میں تحریک انصاف کی کراچی کے حوالے سے کیا حکمت عملی ہوگی ؟ آپ کو 2013 میں کراچی سے بہت پذ یرائی ملی لیکن آپ کی جماعت کراچی والوں کی امیدوں پرپوری نہیں اتری؟۔

شاہ محمود قر یشی: ہم نے اس حوالے سے کراچی مشاورتی کو نسل بنائی ہے. اسد عمر صاحب اس کو دیکھ رہے ہیں . آپ انشاء اللّه بہت جلد کراچی میں جگہ جگہ تحر یک انصاف کی موجودگی  دیکھیں گی۔ ہم کراچی کی سو ل سوسائٹی سے رابطہ کریں گے اوربھرپورعوامی مہم کراچی میں بھی چلائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں