The news is by your side.

Advertisement

معاشی خود انحصاری کے لیے اکنامک ڈپلومیسی ضروری ہے: وزیر خارجہ

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ معاشی خود انحصاری کے لیے اکنامک ڈپلومیسی کو بروئے کار لانا ہوگا، جدید دور کے تقاضے بدل چکے ہیں سوشل میڈیا متحرک ہے، ہمیں بھی مزید فعال ہونے کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزارت خارجہ کے افسران سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ میری ٹیم بہت اچھی ہے اور انتہائی پر امید ہوں، پر امید ہوں کہ یہ ٹیم پاکستان کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرے گی۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وقت بدل چکا ہے تقاضے بدل چکے ہیں سوشل میڈیا متحرک ہے، ہمیں مزید فعال ہونے کی بھی ضرورت ہے۔ خارجہ محاذ پر بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے بھرپور انداز میں تیاری کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ علم ہے وزارت خارجہ کے افسران جانفشانی سے کام کرتے ہیں، یہاں رات گئے تک کام ہوتا ہے، یہاں ہفتہ وار چھٹیوں کا رواج نہیں۔ میرے نزدیک گریڈ کی نہیں کارکردگی کی اہمیت ہے۔ میں ہمیشہ کارکردگی کو اہمیت دیتا ہوں اور دوں گا۔ واضح کرنا چاہتا ہوں ہمارے دور میں پوسٹنگ کارکردگی کی بنیاد پر ہوگی۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 12 مشنز ابتدائی طور پر ہم نے سلیکٹ کیے ہیں، ربط مزید بہتر بنانے کے لیے فارن آفس ویڈیو سروس شروع کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنے طور طریقوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ میرے نزدیک کام نہ کرنے والوں کی کوئی جگہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کے افسران بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر آتے ہیں اور بطور سیکریٹری ریٹائر ہوتے ہیں یہی اس سروس کی خوبصورتی ہے۔ مشاورتی کونسل کا قیام ہمارا بہت احسن اقدام تھا۔ اکنامک ڈپلومیسی ہماری اہم ترین ضرورت ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ معاشی خود انحصاری کے لیے اکنامک ڈپلومیسی کو بروئے کار لانا ہوگا۔ زیر تربیت افسران کو پڑھائے جانے والے کورسز کو دیکھنا ہوگا۔ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے وزارت نے کارکردگی دکھائی، کشمیر سیل کا قیام اہم ضرورت تھی آج اس کا چوتھا اجلاس ہو گا۔ افسران تجاویز دیں کہ کیسے ہم اس سروس کو مزید نتیجہ خیز بنا سکتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں