site
stats
پاکستان

مسلم لیگ ن آج کاشونہ کرتی تویہ ان کی سیاسی موت تھی،شاہ محمودقریشی

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج کا شو مسلم لیگ نواز کی سیاسی ضرورت ہے، مسلم لیگ ن آج کاشونہ کرتی تویہ ان کی سیاسی موت تھی۔

تفصیلات کے مطابق اےآروائی نیوز کی خصوصی نشریات اسلام آباد سے جی ٹی روڈ تک کا سفر میں پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز نے سیاسی طور پر زندہ رہنے کیلئے آج کا شو کیا،مسلم لیگ ن آج کاشونہ کرتی تویہ ان کی سیاسی موت تھی۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج کے شو کا موازنہ بے نظیر بھٹو شہید کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا، بے نظیربھٹو آمریت کیخلاف نکلی تھیں، مسلم لیگ ن کی وفاق اور پنجاب میں حکومت ہے، مسلم لیگ نواز آج کی ریلی کس کے خلاف نکال رہی ہے؟ عوام مسلم لیگ نوازکومسترد کرچکے ہیں،الیکشن میں اظہار بھی ہوجائیگا۔

مسلم لیگ نواز آج کی ریلی کس کے خلاف نکال رہی ہے؟

انھوں نے کہا کہ آپ خود کہتے ہیں میں سپریم کورٹ کا احترام کرتاہوں، سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول کریں ،کڑوے فیصلے قبول کیےگئے ہیں، جے آئی ٹی کی رپورٹ آپ کی توقعات کے برعکس آئیں تو سیخ پا ہوگئے، آپ ضرور جلوس نکالیں لیکن سرکاری وسائل استعمال نہ کریں، پنجاب حکومت مسلم لیگ ن کے جلوس کیلئے لگی ہوئی ہے، پنجاب حکومت کے وسائل ریلی کیلئےاستعمال کیےجارہےہیں۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ہم پر کنٹینرکی سیاست کرنے کے الزامات لگائے جاتے رہے، نقل میں بھی یہ لوگ ماہر ہیں، کنٹینر پر آج یہ خود سوار ہیں، پی ٹی آئی کے جلسوں میں ساؤنڈ سسٹم ہوتا ہے، آج بھی استعمال کررہے ہیں، پی ٹی آئی رہنما پارٹی جھنڈے کو گلے میں ڈالتے ہیں یہ بھی ایسا کر رہے ہیں۔

ہم نے ریلیاں نکالیں احتجاج کیا تو لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے ریلیاں نکالیں احتجاج کیا تو لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، امیر مقام خیبر پختونخوا سے اسلام آباد پہنچ گئے، کسی نےنہیں روکا، ہم نے ریلی نکالی تو کہتے تھے جمہوریت کو خطرہ ہوگیا ہے، آج ہم پوچھتےہیں آپ کس کے اشارے پر یہ ریلی نکال رہے ہیں۔

انکا مزید کہنا تھا کہ حقائق شاید ہم بھول جائیں لیکن مؤرخ سب کچھ لکھ رہاہے، عدالتوں فیصلوں پر سر تسلیم خم کرنا چاہیے تھا ہم نے بھی کیا، نوازشریف گرینڈ ڈائیلاگ کس سے کرنا چاہتے ہیں، فضل الرحمان اور محمودخان اچکزئی تو ان کی جیب میں ہیں ، ایک بڑی جماعت کے ساتھ مک مکا کی نئی کہانی کا آغاز ہوچکا ہے، اسمبلی میں جو قرارداد لائی گئی اس جماعت کی اہم رکن اسمبلی میں تھیں۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top