The news is by your side.

Advertisement

ٹرمپ امداد کا آڈٹ کرالیں، دودھ کا دودھ پانی کاپانی ہوجائےگا،شاہ محمود

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستانی احسان فراموش قوم نہیں، ٹرمپ بتائیں پاکستان سےزیادہ قربانیاں کس ملک نےدیں؟ ٹرمپ امدادکاآڈٹ کرالیں،دودھ کادودھ پانی کاپانی ہوجائے گا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمودقریشی نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اہم موضوع پر قومی اسمبلی کااجلاس بلانےپرمشکورہوں ، ایوان میں آج سوچ کی یکجہتی نظرآرہی ہے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔

شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے اپنے بیان میں پاکستان پر بہت سے الزامات لگائے، پاکستان نےیک زبان ہوکرامریکاکےالزامات کومسترد کیا ہے،وزیر خارجہ کا چین،روس ،ترکی جانا درست فیصلہ ہے، ایران جانے کی چوہدری نثارکی بات سےاتفاق کرتاہوں، موجودہ صورتحال میں ایران کوساتھ لیکرچلنےسےاتفاق کرتاہوں۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم پاکستان کے نمائندے ہیں، مشترکہ بیانیہ کامثبت اثر ہوگا، پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرملک ہے، ٹرمپ بتائیں کس ملک نے پاکستان سےزیادہ قربانیاں دیں، ٹرمپ آکرحساب کریں آپ نے دیا کتنا اور ہم نے بھراکتنا، کولیشن سپورٹ فنڈز کتنی کٹوتی کے بعد ملتے تھے جانتے ہیں، ٹرمپ امدادکاآڈٹ کرالیں،دودھ کادودھ پانی کاپانی ہوجائے گا۔

انکا کہنا تھا کہ پاکستان کی پالیسی واضح ہے اوراس میں تسلسل رہا ہے، پاکستان کو احساس ہے، افغان امن سے ہمارا مستقبل جڑا ہے، پاکستان کے امن کیلئے لازم ہے، افغانستان میں امن ہو، ہر دور میں ہماری پالیسی افغانستان میں امن ہی رہی ہے، امریکا کو بھی علم ہے پاکستان افغانستان میں امن چاہتاہے۔

شاہ محمود نے کہا کہ امریکا بار بار الزام لگائے تو پاکستانی قوم کو اپنی صفوں کودیکھنا ہوگا، پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں قیمت ادا کی ہے، آج ٹرمپ نے پاکستان کی پالیسی اور مملکت پرنکتہ چینی کی ہے، امریکا یکسر تمام معاملات کو مٹی میں ملادے یہ ممکن نہیں ٹرمپ کمزورہوسکتا ہے، مگرتاریخ کمزور نہیں۔

رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن بذریعہ دہلی نہیں آسکتا، امریکا کی سوچ یہی ہے تو اس کا مطلب ریڈلائن کراس کی گئی، ہمیں پاکستان کاواضح مؤقف امریکاکو پہنچانا چاہئے، وقت آگیا ہے، آج قوم جاگ جائے اور یکجا ہوجائے۔

انھوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے اب پاکستان کو گھٹنے نہیں ٹیکنے دیں، جنگ کےحق میں تھے نہ ہیں،امن کی خواہش کل بھی تھی آج بھی ہے، ٹرمپ انتظامیہ سے پہلاسوال ہے حامدکرزئی نے پالیسی کیوں مسترد کی، افغانستان کا وہ شخص کہہ رہا ہے، جو امریکا کے بہت قریب تھا۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ امریکا کو افغانستان میں پناہ گاہیں کیوں دکھائی نہیں دیتیں، بارڈرمینجمنٹ کی ہماری تجاویز پر امریکا پانی کیوں پھیر دیتا تھا، امریکابتائے سرحدی معاملات پربات کیوں ٹال دی جاتی تھی، امریکا پاکستان میں مقیم افغانیوں کیلئے کیا تعاون کررہاہے۔

شاہ محمود نے کہا افغانستان سے کہنا چاہتاہوں آپ ہمارے بھائی ہیں اوررہیں گے، کیا افغانستان پاکستان کی جانب سے ہر معاملے پر تعاون کو بھول گیا، کیا پاکستان کی خدمات پر افغانستان کے عوام خاموش رہیں گے، کئی فورمز پر دہشت گردوں کی فنڈنگ کی بات کی گئی۔

انھوں نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا افغانستان میں منشیات کی کاشت دکھائی نہیں دیتی؟ کیا افغانستان میں منشیات کی کاشت بھی پاکستان کی ذمہ داری ہے؟ کیا افغانستان کے اندرونی معاملات کا ذمہ دار بھی پاکستان ہے؟ افغانستان کی فورسزمیں تنازعےکاذمہ داربھی کیا پاکستان ہے؟ کیاافغانستان کےاندرونی معاملات پرہمیں کٹہرے میں کھڑاہونا ہوگا؟ اوباما نے بھی کہاتھا پاکستان کا کمانڈ اینڈکنٹرول سسٹم عالمی معیار کا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما نے مزید سوال کئے کہ کیا امریکا کو بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں میں اضافہ نظرنہیں آتا ؟ امریکا بھارت سے تعاون کرکے پاکستان سے امتیازی سلوک کررہا ہے، بھارت سے سول نیوکلیئر کا معاہدہ کیا گیا یہ امتیازی سلوک نہیں؟ کیا پاکستان کو اپنے دفاع کا حق نہیں ہے؟

انکا کہنا تھا کہ بھارت کا بیانیہ امریکا کو نظر آتا ہے مگر مسئلہ کشمیرکیوں نظرنہیں آتا، بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک کیا امریکا کو نظرنہیں آتا، بھارت سے معمول کے تعلقات مسئلہ کشمیرسے مشروط ہیں، بھارت مسائل پر مل بیٹھنے کو تیارنہیں تو پاکستان کیا کرسکتا ہے، کشمیرمیں نوجوان جو کھڑے ہو رہےہیں، کیا وہ پاکستانی ہی، دنیا مسئلہ کشمیر کی صورتحال سے نظر کیوں چرا رہی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکا داعش کا خاتمہ کرے تو پاکستان کو کبھی اعتراض نہیں ، کیا امریکا کو القاعدہ کے اہم دہشتگرد گرفتار کرکے نہیں دیئے، مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو انگلیاں اٹھانے کے بجائے، گریبان میں جھانکیں۔

رہنما پی ٹی آئی نے اسپیکر سے درخواست کی کہ مشترکہ اجلاس پہلی فرصت میں بلائیں، ایوان میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے، پاکستان کی خاطر ہمیں ملکر مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے، پاکستان کو ماضی میں ہونے والی غفلت دوبارہ نہیں برتنی، امریکی سیکریٹری آتی ہیں تو وزیراعظم اور آرمی چیف کو نہیں ملنا چاہیے، امریکی اسٹیٹ اسسٹنٹ سے ان کے ہم منصب کو ہی ملناچاہئے، پارلیمانی لیڈرز سے مشاورت کے بعد مشترکہ اجلاس بلائیں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں