The news is by your side.

Advertisement

امریکہ افغانستان مذاکرات کا انعقاد پاکستان کی بڑی کامیابی ہے، شاہ محمو قریشی

میونخ : وزیرخارجہ شاہ محمو قریشی نے کہا ہے کہ افغان مسئلے کا واحد شعوری حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنا ہے، خوشی ہے ہمیں کامیابی ملی اور ہمارے نقطہ نظر کو تسلیم کیا گیا، آج طالبان مذاکرات کی میز پر ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے میونخ میں منعقدہ کانفرنس کے افغانستان سے متعلق خصوصی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا، وزیرخارجہ نے کہا کہ افغانستان اور امریکا کی ہم سے دو توقعات تھیں، پہلی توقع تھی پاکستان اثرو رسوخ کے ذریعے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے، اس میں کامیابی حاصل ہوئی آج طالبان مذاکرات کی میز پر ہیں۔

دوسری توقع تھی کہ ہم ایسا وفد تشکیل دیں جسے مذاکرات کا اختیار ہو، با اختیار وفد تشکیل پایا جس کے ابوظہبی، دوحہ میں مذاکرات ہوئے، ابھی بہت سا کام باقی ہے، زلمے خلیل زاد نے ہماری کاوشوں کو سراہا اور صدر ٹرمپ نے بھی اسے تسلیم کیا۔

مذاکرات کا اگلا دوراسلام آباد میں متوقع ہے، اگلے مرحلے کے بعد25 فروری کو دوبارہ دوحہ میں نشست ہوگی، مذاکرات کا یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو نقصان دہ ہوگا، اسٹیک ہولڈرز کو ذمہ داری نبھاتے ہوئے آپس میں اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔

فریقین میں ڈائیلاگ وقت کی اہم ضرورت ہیں، اس کے بغیر مصالحت ممکن نہیں، پاکستان خطے میں استحکام اور قیام امن کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ ہمارا مستقبل وابستہ ہے، افغانستان میں امن و استحکام پاکستان کے وسیع تر مفاد میں ہے۔

میونخ کانفرنس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی افغان صدر اشرف غنی کے علاوہ جرمنی کے وزیر خارجہ اور کینڈین اور ازبکستان کے ہم منصب سے بھی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے متعدد شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں