دورہ چین مفید رہا، دوطرفہ تعلقات مستحکم کرنے میں مدد ملی، شاہ محمود قریشی -
The news is by your side.

Advertisement

دورہ چین مفید رہا، دوطرفہ تعلقات مستحکم کرنے میں مدد ملی، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم کرنے میں مدد ملی، دورے کے چار اہم مقاصد تھے15 معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا، شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان کے دیرینہ گہرے اور باہمی اعتماد پر مبنی تعلقات ہیں، اس دورے سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم کرنے میں مدد ملی ہے، اسٹرٹیجک تعلقات کو معاشی تعلقات میں بدلنے کیلئے دورہ مفید رہا۔

منی لانڈرنگ سے متعلق بتاتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ منی لانڈرنگ سمیت اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے جن میں چار بہت اہم ہیں، منی لانڈرنگ میں ملوث ملزم اپنے ملکوں میں سزا پوری کرسکیں گے، اس کے علاوہ چین کے ساتھ غربت کے خاتمے اور دونوں ممالک میں زرعی شعبے کی ترقی کیلئے بھی معاہدہ ہوا،۔

غربت کے خاتمے کے لئے کیا گیا معاہدہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ چین کے پاس غربت کے خاتمے کے لئے وسیع تجربہ ہے۔ اسٹریٹجک ڈائیلاگ وزرائےخارجہ کی سطح پر لےجانے پر بھی اتفاق ہوا، معاہدہ کے تحت سزا یافتہ قیدی اپنے اپنے ملک میں سزا مکمل کریں گے۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ برآمدات کو دو گنا بڑھانے میں کامیابی کی پوری امید ہے، پاکستان اور چین میں مقامی کرنسی کو ترجیح دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے، چوتھا ایم او یو زرعی شعبے کی بہتری کے لئے کیا گیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چین سے دوستی سے متعلق غلط تاثر دینے کی کوشش کی گئی، پاک چین تعلقات ناصرف اچھے بلکہ مزید بہتری پرگامزن ہیں، ہم نے چینی قیادت میں پہلے سے زیادہ گرم جوشی دیکھی ہے، ہم نےچین سے معاشی استحکام لانے کیلئے کافی کچھ سیکھنا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ برآمدات بڑھانے کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، پاکستان اور چین میں مقامی کرنسی کو فروغ دینے کی تجویز دی گئی ہے، پاکستان سی پیک کی اہمیت کو سمجھتا ہے، سی پیک لانگ ٹرم منصوبہ ہے جس پر یکسوئی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

ایف ٹی اے کےسیکنڈ فیز کو جلدازجلد تکمیل تک پہنچائیں گے، اپریل تک ایف ٹی اے کا سیکنڈ فیز مکمل ہوجائےگا، خواہش ہے کہ ہمارا آپس میں اس پر ایگریمنٹ سائن ہوجائے، جی سی سی کی اگلی میٹنگ دسمبر میں منعقد ہوگی، گوادر کی اہمیت سےہم انکارنہیں کرتے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں