محبت اور دوستی کا پیغام لے کر افغانستان جانا چاہتا ہوں: شاہ محمود قریشی -
The news is by your side.

Advertisement

محبت اور دوستی کا پیغام لے کر افغانستان جانا چاہتا ہوں: شاہ محمود قریشی

اسلام آباد: نو منتخب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اپنا پہلا غیر ملکی دورہ افغانستان کا کرنا چاہتا ہوں۔ محبت، دوستی اور ایک نئے آغاز کا پیغام لے کر افغانستان جانا چاہتا ہوں۔ افغان عوام کو پیغام دینا چاہتا ہوں ہمیں مل کر آگے بڑھنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نو منتخب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پہلی پریس کانفنرس کرتے ہوئے کہا کہ خارجہ پالیسی پاکستان سے شروع ہو کر پاکستان پر ہی ختم ہوگی۔ پاکستان کا مفاد سب سے مقدم ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو از سر نو دیکھا جائے گا۔ خارجہ پالیسی کی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتیں پاکستان کو تنہائی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ 4 سال پاکستان کا وزیر خارجہ ہی نہیں رہا۔ وزیر خارجہ نہ رہتے ہوئے ایسی طاقتوں کو موقع ملا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی کمزور ہو تو دشمن فائدہ اٹھاتا ہے۔ ہمیں خارجہ پالیسی میں اصلاحی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دیتا ہوں، سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، خواجہ آصف کو دعوت دوں گا۔ ’ایم ایم اے کے رہنما کو بھی مدعو کروں گا، چاہوں گا ان سابق وزرائے خارجہ سے مشاورت کروں‘۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خارجہ امور پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ کابینہ میٹنگ کے بعد تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات کروں گا، تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات میں ان کے تجربہ سے سیکھوں گا۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کی بات کی ہے، آج افغان ہم منصب کو ٹیلی فون کروں گا۔ ’اپنا پہلا غیر ملکی دورہ افغانستان کا کرنا چاہتا ہوں، افغانستان میں امن کے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ محبت، دوستی اور ایک نئے آغاز کا پیغام لے کر افغانستان جانا چاہتا ہوں۔ افغان عوام کو پیغام دینا چاہتا ہوں ہمیں مل کر آگے بڑھنا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ میرا دوسرا پیغام بھارت کی وزیر خارجہ کے لیے ہے۔ ہم صرف ہمسائے ہی نہیں ایٹمی قوتیں بھی ہیں۔ ہم دونوں ممالک کے مسائل سے سب واقف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے مسائل کا حل گفت و شنید کے بغیر ممکن نہیں۔ ہم ایک دوسرے سے منہ نہیں موڑ سکتے، ہمیں حقائق تسلیم کرنا ہوں گے، کشمیر ایک مسئلہ ہے، ایڈونچر کا کوئی فائدہ نہیں، دونوں ملکوں کا نقصان ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اٹل بہاری واجپائی نے آج نہیں ماضی میں مسائل کو تسلیم کیا۔ واجپائی صاحب کے اسلام آباد مذاکرات تاریخ کا حصہ ہیں۔ آج پھر کہتا ہوں ہمیں بامعنی مذاکرات کی ضرورت ہے۔

شاہ محمود نے کہا کہ ہم حاکم نہیں خادم ہیں، ہمیں اپنے رویے تبدیل کرنے ہیں، خدمت کے جذبے سے ہی اقتدار میں آئے ہیں۔ اخلاق سے کبھی نقصان نہیں ہوتا۔ بیرون ملک پاکستانیوں کے ساتھ خوش دلی سے پیش آنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیلنجز کا احساس ہے، قوم پر مشکل وقت آتے ہیں، خارجی اور داخلی چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہیں۔ عمران خان کے 100 روزہ پروگرام میں میرا چھوٹا سا حصہ ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ احساس ہے وزارت خارجہ میں سلجھے ہوئے بہترین افسران ہیں۔ وزارت خارجہ کے افسران سے ہر قدم پر مشاورت کروں گا۔ ہمارے بہت سے سفارت کار ہیں جو بہترین تجربہ رکھتے ہیں، سابق سفارت کاروں سے بھی مشاورت کا ارادہ رکھتا ہوں۔

شاہ محمود نے بتایا کہ بھارتی وزیر اعظم نے کل خط کے ذریعے عمران خان کو مبارک باد دی، بھارتی وزیر اعظم نے گفت و شنید کے راستے کا پیغام دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی ترجیحات اور تشویش سے اچھی طرح آگاہ ہوں۔ تعلقات دو طرفہ اور عزت و احترام کے ساتھ ہوتے ہیں، کس نے کیا کیا اور کیا کردار رہا سب معلوم ہے۔ پاک امریکا تعلقات میں اعتماد کا فقدان ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں