The news is by your side.

Advertisement

خواتین کارکنان سے بدتمیزی ناقابل قبول ہے،شاہ محمود قریشی

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے رہنماءشاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ یوتھ کنونشن چار دیواری کے اندر ہو رہا تھا وہاں سے کارکنان کی گرفتاری غیر قانونی عمل اور حکومت کی بوکھلاہٹ کا آئینہ دارہے۔

تفصیلات کے مطابق وائس چیرمین تحریک انصاف شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کوئی قانون شکنی نہیں کی تھی،یوتھ کنونشن چار دیواری کے اندر جاری تھا،پبلک مقام پر نہیں تھا لیکن پھر بھی پولیس نے لاٹھی چارج کی خواتین سے بدتمیزی کی اور کارکنان کو عادی مجرموں کی گھسیٹتے ہوئے موبائل میں ڈال کر لے گئے۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ میری آنکھوں کے سامنے خواتین کو مرد اہلکاروں نے شرمناک طریقے سے گرفتار کیا،ہاتھ اٹھایا گیا ہے،خاتون کارکن کو مرد پولیس اہلکار نے ہاتھ لگایا،اس قسم کی بد اخلاقی کسی طور سے برداشت نہیں کی جائے گی۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماءشاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پولیس کا محاصرہ توڑ کربنی گالا پہنچے ہیں اور یہاں لیڈر شپ کے ساتھ مشاورت کے بعد آئندہ کی حکمت عملی طے کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرے آنکھوں کے سامنے مرد اہلکاروں نے شرمناک طریقے سے خواتین کارکنان کو گرفتار کیا وہ چلاتی رہی ،لاٹھیاں برسائی گئیں،بال گھسیٹے گئے،ہاتھ اٹھایا گیا ہے،آج ہماری بیٹیوں پر ہاتھ اٹھایا گیا ہے،جو بھی نظریاتی کارکن ہے وہ 2نومبر کو باہرنکلے اور اسلام آباد پہنچے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے آئی جی سے کہا کہ مجھے اور اسد عمر کو بٹھا لو ، کارکنوں کو چھوڑ دو ،جو پوچھنا ہے مجھ سے پوچھو لیکن پولیس ہمارے 140 کارکنان کو لے گئی، تحریک انصاف کے وکلاء کو کارکنان سے ملنے نہیں دیا جارہا ہے۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف اسد عمر نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ کسی شخص کو احتجاج پر گرفتار نہ کیا جائے،لیکن ہائی کورٹ کے احکامات کی دھجیاں بکھیر دیں گئیں،انتظامیہ کارکنوں کو کمرے نہ دینے کے لیے گیسٹ ہاوسز کودھمکیاں دے رہی ہے جب کہ اسلام آباد کی طرف آنے والے لوگوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں