The news is by your side.

Advertisement

شاہ محمودقریشی نے تاحیات نااہلی کے فیصلے کو تاریخی فیصلہ قرار دے دیا

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمودقریشی نے تاحیات نااہلی کے فیصلے کو تاریخی فیصلہ قرار دے دیا اور کہا کہ سارے فیصلے خواہش کے تحت نہیں آتے، فیصلے سے نقصان تو ہوا ہے لیکن فیصلے کو تسلیم کرنا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما شاہ محمودقریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صرف انصاف چاہتے ہیں،ذمہ داروں کوسزا
ملنی چاہیے، جس کا بچہ قتل ہوا اس کے والد کو پولیس ڈنڈےماررہی ہے، 2013 میں دھاندلی پرفیصلہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں تھا ، اس کے باوجود اس فیصلے کو ہم نے قبول کیا۔

آرٹیکل 62 پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی نوعیت کاہے، ہم اس ملک میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں،ان عناصر کو تنقید کانشانہ بنایا، جنہوں نے عدالتوں کا مذاق اڑایا، ن لیگ کو آئین میں ترمیم نہیں کرنےدیں گے، ایک شخص کیلئے آئین میں ترمیم کی گئی تو بھرپور احتجاج کریں گے۔

مرکزی رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ اس فیصلے کوبھی سرتسلیم خم قبول کرناہوگا،  بھٹو اور اس فیصلےمیں زمین آسمان کا فرق ہے، مسلم لیگ ن نے جذبات میں فیصلے کئے جو الٹے ثابت ہوئے، جماعتیں چندشخصیات کےگردنہیں گھوم سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی قانون سازی نہیں کرنی چاہیےجس سے ان کیلئے مشکلات ہوں، اگر وہ اپنےرویےمیں تبدیلی نہیں لاتےتونقصان کااندیشہ ہے، ان کے مزید ایم این اےعلیحدہ ہونےکےامکان موجودہے۔

شاہ محمودقریشی نے کہا کہ جنوبی پنجاب علیحدہ صوبےکامطالبہ35سال سےچل رہاہے، ایوب کےدورمیں بھی جنوبی پنجاب کوان کاپانی نہیں ملا، بھٹو اندرون سندھ لوگوں کو آگےلائے،بہتر ین ڈپلومیٹ پیداہو ئے، پنجاب کےبجٹ کا57فیصد ایک شہرپرخرچ کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ہمیں دھڑوں سےغر ض نہیں، ہم مؤقف کی تائیدکر رہے ہیں، پیرپگارا نے بھی کہا جنوبی پنجاب کامقدمہ مضبوط ہے،

جہانگیر ترین کی تاحیات نااہلی کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ جہانگیر تر ین تجربہ کارآدمی ہیں ان کی خدمات کااعتراف کرتےہیں، اس فیصلےسےہمیں نقصان ہواہےلیکن اس کوتسلیم کرناہوگا۔

رہنما پی ٹی آئی کا مزید کہنا  تھاکہ پیپلزپارٹی کوسنہری موقع ملالیکن صوبے قرارداد کی حدتک رہے، انہوں نے لڑائی پیدا کرنے کیلئے بہاولپور کا شوشہ چھوڑا گیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں