The news is by your side.

Advertisement

آج دنیا کے سامنے بھارتی عزائم بے نقاب ہوگئے ہیں، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد: پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت اگر سمجھتا ہے کہ آئینی ترامیم سے مسئلہ کشمیر حل ہوجائے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔

تفصیلات کےمطابق بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 ختم کرنے پر اے آروائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت نےاقوام متحدہ میں جووعدہ کیاتھااس کی خلاف ورزی کی،بھارت نےجوآئینی ترامیم کی ان کاکوئی قانونی اوراخلاقی جوازنہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرکےعوام نےآرٹیکل ختم کرنےکی کھل کرمخالفت کی ہے ، آئینی ترامیم سےبھارت عوامی رائےعامہ کوتبدیل نہیں کرسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسئلےکوپرامن طورپرحل کرنےکاخواہشمندہے۔

بھارت نےمقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کردی

آرٹیکل 370 کیا تھا؟ مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو کیا نقصان ہوگا؟

وزیر خارجہ شاہ محمو د قریشی کے مطابق پاکستان کی خواہش تھی معاملے کومل بیٹھ کر حل کریں، تاہم بھارت نے کشمیر کے معاملے کو آج مزید الجھا دیا ہے۔بھارت سمجھتاہےترامیم سےمسئلہ حل ہوجائےگاتویہ خام خیالی ہے کیونکہ کشمیریوں کے حق خود ارادایت کوکوئی ترمیم بدل نہیں سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیریوں کےجذبہ حریت کوکوئی آئینی ترمیم کچل نہیں سکتی،آج بھارت نےمسئلہ کشمیرکوعالمی حیثیت دلادی ہے ۔

شاہ محمود قریشی نے کشمیری قیادت کو نظر بند کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میرواعظ عمرفاروق پہلےہی کہہ چکےکہ ترمیم کے بھارتی اقدام کاردعمل آئےگا۔ یہ ردعمل نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ آزاد کشمیر میں بھی آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کےاقدامات نےمعاملےکواورالجھادیاہے، تاہم دنیاکےسامنےبھارت کےمقاصدبےنقاب ہوگئےہیں۔مسلم امہ کوبھارت کےاقدامات کانوٹس لیناچاہیے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے پر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کوسامنےرکھتےہوئےبات کریں گے،یہ مسئلہ کئی دیائیوں سےچلاآرہاتھاجس کوسلجھانےکے لیے پیشکش کی تھی۔ اب دنیادیکھ رہی ہےکہ بھارت کےمقاصدکیاتھے۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں تعینات پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کوہدایت کردی ہےکہ نیویارک پہنچ کررابطےشروع کردیں، ملیحہ لودھی نیویارک پہنچ کرعالمی برادری کومقبوضہ کشمیرکی صورتحال سےآگاہ کریں گی۔

 خیال رہے کہ بھارتی وزیرداخلہ نے آرٹیکل370 ختم کرنے کا بل پیش کیا تھا، تجویز کے تحت غیرمقامی افراد مقبوضہ کشمیر میں سرکاری نوکریاں حاصل کرسکیں گے اور 370 ختم ہونے سے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہوجائےگی۔

بعد ازاں بھارتی صدر نے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بل پر دستخط کردیے اور گورنر کاعہدہ ختم کرکے اختیارات کونسل آف منسٹرزکو دے دیئے، جس کے بعد مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہوگئی۔

خیال رہے آرٹیکل تین سو ستر مقبوضہ کشمیرکوخصوصی درجہ دیتے ہوئے کشمیر کو بھارتی آئین کا پابند نہیں کرتا، مقبوضہ کشمیر جداگانہ علاقہ ہے، جسے اپنا آئین اختیارکرنے کا حق حاصل ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں