The news is by your side.

Advertisement

حکومت نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد میں ناکام رہی: شاہ محمود قریشی

اسلام آباد : فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پرممبرقومی اسمبلی اورتحریک انصاف کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے فوجی عدالتوں میں مزید توسیع دینے میں دلچسپی ان کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت جمہوری اصطلاحات قائم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ دو سال قبل نامساعد حالات کی وجہ سے فوجی عدالتوں کا قیام ممکن ہوا تھا۔ تاہم حکومت کی جانب سے ملٹری کورٹس کے قیام میں مزید توسیع کی خواہش اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ حکومت گذشتہ دوسالوں میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔

تحریک انصاف کے سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ اگرچہ دہشتگردی کے چیلنچ سے نمٹنے کے لئے ہم حکومت کے ساتھ ہیں مگریہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ مرکزی حکومت گذشتہ دو سالوں میں ٹھوس اقدامات کیوں نہ کرسکی۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم نے نیشل ایکشن پلان کے تحت وہ کامیابی حاصل نہیں کی جس کے حصول کے لئے یہ پلان مرتب کیا گیا تھا.ہم حکومت سے پوچھناچاہتے ہیں کہ ان کا مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہے؟۔

انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ضرب عضب کامیاب آپریشن ہے. جس کی بدولت ملک میں امن کا قیام ممکن ہوا ہے. مگر ہم کب تک فوجی عدالتوں کے سہارے چلتے رہیں گے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ ملٹری کورٹس کے قیام میں مزید دو سال کی توسیع کی جائے اس کا مطلب ہے کہ گذشتہ دو سال حکومت نے آئیں، بائیں، شائیں کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

 پانامہ لیکس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کے موقف سے مطمئن نہیں ہیں تاہم  تحریک انصاف مشاورت کے بعد جواب دے گی۔

مزید پڑھیں :فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا فیصلہ،مشاورت شروع

واضح رہے حزب اقتدار کی جانب سے ملٹری کورٹس کے قیام میں مزید توسیع کے لئے حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں