آج ملک اس نہج پر ہے کہ ہم سب اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور دیکھیں یہ نوبت کیسے آئی، وزیرخارجہ
The news is by your side.

Advertisement

آج ملک اس نہج پر ہے کہ ہم سب اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور دیکھیں یہ نوبت کیسے آئی، وزیرخارجہ

اسلام آباد : وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کا کہنا ہے کہ آج ملک اس نہج پرہے کہ ہم سب اپنے گریبانوں میں جھانکیں، اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں یہ نوبت کیسے آئی، سوال کیا جارہا ہے سعودی عرب کو کیا دے کر آئے ہیں، سعودی عرب سے کوئی وعدہ نہیں کیا،تعاون غیر مشروط ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا جلدہی گوادرایک بڑاتجارتی مرکزبنےگا، آج ملک اس نہج پر ہے کہ ہم سب اپنے گریبانوں میں جھانکیں، اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں یہ نوبت کیسے آئی۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ تنزلی کےذمہ دارکون ہے،ہم کس طرف جارہےہیں، آج عوام انصاف کیلئے ریاست کی طرف نہیں اداروں کی طرف دیکھ رہا ہے، یہ ایک اچھی پیشرفت ہوگی ہم ایک نئے دور کا آغاز کریں۔

شاہ محمودقریشی نے کہا دیکھنا ہے پارلیمنٹ اپنے آپ کوکیسے پیش کرتی ہے، پارلیمانی اندازمیں ایک دوسرے پر تنقید بھی کی جاتی ہے، سینیٹ میں جو ماحول دیکھ رہا ہوں کاش قومی اسمبلی کا بھی ایسا ہوجائے، قومی اسمبلی کا ماحول اسی طرح چلتارہا تو پارلیمنٹیرینز کا قد کم ہوگا، معاشی تنزلی،اداروں کا فقدان، کیسے ہوا کیوں ہوا؟ کون ذمہ دار ہے؟ اطمینان رکھیں کچھ ایسا نہیں ہوگا، جس سے پاکستان کو نقصان ہو۔

سوال کیاجارہاہےسعودی عرب کوکیادےکرآئےہیں، سعودی عرب سےکوئی وعدہ نہیں کیا،تعاون غیرمشروط ہے

ان کا کہنا تھا سعودی عرب کیساتھ تعلقات کچھ سالوں سے سرد مہری کا شکار تھے، پیکج سعودی عرب نے پاکستان کی مدد کیلئے آفر کیا، پیکج سے معیشت میں غیریقینی صورتحال میں ٹہراؤ پیدا ہوا ہے، سعودی عرب میں 4بڑے حکام نے الگ الگ ملاقاتیں کیں، اسٹریٹیجک تعلقات کیساتھ معاشی تعلقات کو وسعت دینی ہے۔

وزیرخارجہ نے کہا چین کے ساتھ ایک کاروباری اشتراک ہونے جارہا ہے، دسمبرمیں کابل میں چین،افغانستان پاکستان وزرائے خارجہ اجلاس ہوگا، سی پیک کو نیا رخ کیسے دینا ہے؟ ماضی کی حکومت کا فوکس انفرا اسٹرکچر پر تھا، ہمارا فوکس انفرا اسٹرکچر سے ہٹ کر ایک اپروج لے کر آگے بڑھنے پر ہے، صحت، تعلیم ،ایگری کلچر، انڈسٹریلائزیشن پر ہمارا فوکس ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دورہ سعودی عرب اورچین سےمتعلق ارکان میں تجسس ہے، موجودہ حکومت نے کوشش کی تعلقات میں بہتری آئی ہے، سوال کیا جارہا ہے، سعودی عرب کو کیا دے کر آئے ہیں، سعودی عرب سے کوئی وعدہ نہیں کیا، تعاون غیرمشروط ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کہا گیاچین دوسری بڑی معیشت ہے، حکومت چین کےساتھ تعلقات کی اہمیت سمجھ نہیں پارہی، دورہ چین انتہائی کامیاب رہا،چینی قیادت سےالگ الگ ملاقاتیں کیںدنیاکوپیغام دیناتھاچین سےہماراگہراتعلق ہےاوروہ ہم نے دےدیا۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ چین دوسری بڑی معیشت ہے، مشرق وسطیٰ کےجوحالات آج دیکھ رہےہیں یہ پہلےنہیں تھے، کھینچاتانی پاکستان کواس خطےکوکس طرح متاثرکرسکتی ہے۔

چندسال پہلے عمران خان نے کہاتھا افغانستان مسئلے کاحل فوجی نہیں،، امریکا بھی آج وہی بات کررہا ہے

شاہ محمودقریشی نے کہا چندسال پہلے عمران خان نے کہاتھا افغانستان مسئلے کاحل فوجی نہیں، عمران خان نے افغان مسئلے کے حل کیلئے مذاکرات تجویز کئے تھے اور ان کی تجویزپرانہیں طالبان خان کہاگیا تھا، امریکا بھی آج وہی بات کررہا ہے جو عمران خان نے کہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے بہت بڑی رعایت دی ہے، کوئی ایسی بات نہیں کی کہ ہم یمن تنازع کاحصہ بنیں، چین کادورہ بہت مفید رہا،تعلقات میں مزید گہرائی پیدا کی گئی، ہمارے مشرق،مغرب اوربھارت کی طرف پیغام جانا لازمی تھا۔

وزیرخارجہ نے کہا آج جو تصادم ایران اور سعودی عرب میں ہےاس کی نظیر نہیں ملتی، شام میں روس کی موجودگی پوشیدہ نہیں، امریکا ایران معاہدہ سے دستبردار ہوا،اس کا تہران کے استحکام پر اثر پڑے گا۔

عمران خان نے کہا میں چاہتا ہوں یمن معاملےمیں ثالث کاکرداراداکروں

شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ یمن بدقسمتی سے جنگ کی کیفیت میں ہے، یمن کی صورتحال پرپاکستان کا کردارہونا چاہیے یا نہیں، ایک طرف سعودی عرب سےتعلقات ہیں، دوسری طرف ایران ہے، خارجہ پالیسی میں جہاں تک ممکن ہو قومی اتفاق رائے ہونی چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے کہا میں چاہتا ہوں یمن معاملےمیں ثالث کاکرداراداکروں، نوازشریف نےبھی ثالثی کی کوشش کی تھی لیکن کامیابی نہیں ملی، ایران پاکستان گیس پائپ لائن معاملےپرہم پرکڑی نظررکھی جاتی ہے، یمن تقسیم ہوچکا، ایک طرف حوثیوں کاکنٹرول، دوسری طرف سعودی اتحاد ،ہم ایران سے پرامن سرحد چاہتےہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں