فواد چوہدری نے کہا ہے کہ شاہ محمودقریشی کیساتھ اسپتال میں تقریباً 45 منٹ تک گفتگو ہوئی، شاہ محمود کیساتھ فارمولے پر گفتگو ہوئی۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام دی رپورٹرز میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ جب بھی پی ٹی آئی کے لوگوں سے کوئی ملتا ہے تو حکومت کو خطرہ ہوجاتا ہے، شاہ محمود قریشی کیساتھ ان کے ہی فارمولے پر بات چیت ہوئی، شاہ محمود کی اعجاز چوہدری، محمودالرشید سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔
سینئر سیاستدان فواد چوہدری نے بتایا کہ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ بات چیت کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہونی چاہیے تاکہ نکتہ نظر سے انھیں آگاہ کریں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ہم سیاستدان ہیں دہشت گرد نہیں، پہاڑوں پر چڑھنے والے لوگ نہیں، سیاستدان ہوں ہم نے اسپیس بنانی ہے تاکہ مسائل حل ہوسکیں۔
انھوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو مشورہ دیا تھا اپوزیشن کو متحد کرکے حکومت سے بات کرتا ہوں، بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ جواب دیتا ہوں اس کے بعد کوئی پیغام ہی نہیں دیا۔
مزیدپڑھیں: ن لیگ کے اہم وزرا سے ملاقات، فواد چوہدری نے اندرونی کہانی بتادی
سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت کو خوف ہوتا ہے ملاقاتیں ہورہی ہیں کہیں ہم تو نہیں جانے لگے، ایسی ملاقاتوں سے پہلے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو بھی اعتماد میں لینا چاہیے۔
فواد چوہدری نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ ان کے پاس احتجاج کےعلاوہ کوئی راستہ نہیں، پی ٹی آئی احتجاج پر جاتی ہے تو ورکرز اور پارٹی قائدین کا نقصان ہوگا، ہم سمجھتے ہیں انگیجمنٹ ہونی چاہیے تاکہ دونوں طرف نقصان نہ ہو۔
انھوں نے کہا کہ شیخ وقاص جیسے لوگوں کو کیا پتہ کہ جیل کی سختیاں کیا ہوتی ہیں، ایک ہی بات کردی جاتی ہے بانی پی ٹی آئی کھڑے ہیں، بانی پی ٹی آئی تو کھڑے ہیں لیکن جیل سے باہر قائدین نے کیا کردار ادا کیا ہے۔
ن لیگ کو یقین دلانا چاہتے ہیں آپ کی حکومت کہیں نہیں جارہی، فواد چوہدری


