The news is by your side.

Advertisement

ای وی ایم مشین شیطانی حربوں کو دفن کرنے کیلئے لائی جارہی ہے، شاہ محمود کا شہباز شریف کو جواب

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے شہباز شریف کے بیان پر کہا کہ ای وی ایم مشین شیطانی حربوں کو دفن کرنے کیلئے لائی جارہی ہے ، ای وی ایم شیطانی مشین نہیں بلکہ شیطانی حربے دفن کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب نے بڑے تحمل اور احترام سے اپوزیشن لیڈرکی گفتگو سنی، قائدحزب اختلاف کی گفتگو کو سنجیدگی سے سنا گیا ہے، یہ ایوان ایسی قانون سازی کررہی ہے جس سے ماضی کی غلطیاں دورہوں گی۔

شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ قائدحزب اختلاف نے کہا کہ ہم کوئی کالا قانون مسلط کرناچاہتے ہیں، ہم کالا قانون مسلط نہیں بلکہ ماضی کی کالک دھوناچاہتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میں اتفاق کرتاہوں کہ آج تاریخی دن ہے، حکومت ماضی کی خرابیاں تبدیل کرکےشفاف الیکشن کاارادہ رکھتی ہے، 2013میں پی ٹی آئی نے اعتراضات رکھے،جوڈیشل کمیشن کا رخ کیا، سوال یہ ہے ہم تاریخ سےسبق کب سیکھیں گےاورسمت کب درست کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا ہر گز ارادہ نہیں کہ ہم بلز کو بلڈوزکرناچاہتے ہیں، حکومت نے بارہا اپوزیشن کےممبران سے رابطہ ،درخواستیں کیں، اپوزیشن کو ہم نے مؤقف پیش کرنے کاموقع فراہم کیا۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ حکومت ارادہ کرچکی تھی ہم نےبارہاآپ اورممبران سےرجوع کیا، آپ ای وی ایم مشین کو تذکرہ کر رہے ہیں ہم نےاس کیلئے موقع فراہم کیا، اگر عجلت میں اجلاس بلایاجاتا تو آپ ممبران کو کیسے بلاتے، 11نومبرکواجلاس کی تاریخ دےدی گئی تھی۔

وزیر خارجہ نے شہباز شریف کے بیان پر کہا کہ آپ کی تقریر اعتراف ہے کہ حکومتی صفوں میں یکجہتی ہے ، حکومت جمہوری انداز میں آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتی ہے، ہمارے پاس عددی اکثریت نہ ہوتی تویہ بل کیسےپیش کرتے؟ آپ کی تقریرکالب لباب اعتراف ہےکہ حکومت کی صفوں میں یکجہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی کے عمل میں کوئی کوتاہی نہیں برتی گئی، ہم نےہر طریقے کو فالوکیا جو قانون سازی پروسیجرہیں اس میں کوتائی نہیں برتی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا ای وی ایم کو شیطانی مشین کا نام دینا آپ کا حق ہے، ای وی ایم مشین شیطانی حربوں کو دفن کرنے کیلئے لائی جا رہی ہے، ای وی ایم شیطانی مشین نہیں بلکہ شیطانی حربے دفن کرے گی۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آپ نے 73 کے آئین کا ذکر کیا پارلیمنٹ کل اورآج بھی 73کے آئین پر متفق ہے، آج ہم تاریخ رقم کرنے جارہے ہیں اور تاریخی غلطی جھٹلانے جارہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ قانون سازی کےذریعےشفاف نظام متعارف کرانےکاارادہ رکھتےہیں، شہبازشریف نےکہاکہ اسپیکرصاحب پارٹی ممبر شپ سےمستعفی ہوجائیں ، ہم پوچھتےہیں کیا آپ نےایازصادق سےیہ مطالبہ کیاتھا، ہم نےایساکوئی مطالبہ نہیں کیاتھاجوآج آپ کررہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انتخابی اصلاحات کی ضرورت تھی، ہردورمیں انتخابی اصلاحات کاتذکرہ ہوتارہا ہے، 2013میں قانونی راستہ اختیارکیا،4حلقوں کاحوالہ دیا، جوڈیشل کمیشن تشکیل دیاگیا40کےتقریب سفارشات پیش کی گئیں۔

وزیر خارجہ نے ایوان میں کہا کہ آج جس قانون سازی کاذکرکرتےہیں اس میں پی ٹی آئی کاپوراحصہ شامل ہے، ریاست مدینہ کا تصور اور خواب ہر پاکستانی بچے کے دل میں بستاہے، پاکستان کی تحریک آزادی کےموومنٹ ریاست مدینہ کااصول تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیناچاہتے ہیں مگر اعتراض بھی کرتے ہیں، یہ کیسا ماجرا ہے کہ اوورسیز کا ڈالر قبول ہے مگر ان کا ووٹ دینا قبول نہیں،اوورسیزپاکستانی قوم کااثاثہ ہیں، ہم اوورسیزکوپاکستان کی پالیسی میکنگ میں حصہ دار بنانا چاہتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا انتخابات کوچوری سے بچانا ہے اس لئے ایوان کومؤخرنہ کیا جائے، گزارش ہے نظام کوبچانا ہے تو بل کے حق میں ووٹ دیں ضمیرکا سودا نہ کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں