The news is by your side.

Advertisement

لتا منگیشکر کی آخری رسومات: شاہ رخ خان انتہا پسندوں کی نفرت کا نشانہ بن گئے

برصغیر کی معروف گلوکارہ لتا منگیشکر گزشتہ روز چل بسی تھیں، ان کی آخری رسومات میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور بالی ووڈ کے بیشتر فنکاروں نے شرکت کی تاہم ان افسوسناک لمحات میں بھی ہندو انتہا پسندوں نے تنازعے کی وجہ ڈھونڈ لی۔

لتا منگیشکر کی آخری رسومات میں وزیر اعظم نریندرمودی سمیت ملک بھر سے معروف شخصیات نے شرکت کی جن میں بالی ووڈ کے کنگ خان شاہ رخ بھی شامل تھے۔

سوشل میڈیا پر ان کی کچھ تصاویر اور ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ اور ان کی مینیجر لتا کے جسد خاکی کے قریب کھڑے ہیں، مینیجر ہاتھ جوڑ کر دعائیہ کلمات ادا کر رہی ہیں جبکہ شاہ رخ دونوں ہاتھ بلند کیے دعا مانگ رہے ہیں۔

دعا مانگنے کے بعد شاہ رخ نے اپنا ماسک اتارا اور لتا کے جسد خاکی کے اوپر پھونک دیا۔

اس ویڈیو کا سامنے آنا تھا کہ ہندو انتہا پسندوں نے طوفان کھڑا کردیا، بیشتر افراد نے الزام عائد کیا کہ شاہ رخ نے لتا کے جسد خاکی پر تھوکا ہے۔

ٹویٹر پر شاہ رخ خان کی یہ ویڈیو پوسٹ کی گئی اور اس پر نفرت آمیز اور تضحیکی تبصرے کیے۔

تاہم ایسے افراد کی بھی کمی نہیں تھی جو اس عمل کے بارے میں جانتے تھے، انہوں نے نہ صرف دعا پڑھ کر پھونکنے کے عمل کی وضاحت کی بلکہ اس پر بلا وجہ کا تنازعہ کھڑا کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں بھی لیا۔

معروف آنجہانی گلوکارہ لتا منگیشکر کی آخری رسومات گزشتہ روز قومی اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی ہیں، ان کے انتقال پر بھارتی حکومت نے قومی سطح پر 2 روزہ سوگ منانے کا بھی اعلان کیا ہے، اس دوران قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں