مغلیہ دور میں تاج و تخت کے لیے جنگیں، سازشیں اور بادشاہوں اور شہزادوں میں خوں ریز تصادم کے قصّے اور اس عہد کی تاریخ پر مبنی کتابوں میں درج واقعات ہماری دل چسپی اور توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ یہ بھی تاریخ کا ایک ایسا ہی باب ہے جو شہزادہ محمد شاہ شجاع کے درد ناک انجام کو ہمارے سامنے لاتا ہے۔
مغل شہنشاہ شاہجہاں اور ملکہ ممتاز محل کا دوسرا بیٹا شجاع جو اورنگزیب عالمگیر کا بڑا بھائی تھا، اپنی دلیری اور علم دوستی کی وجہ سے مغل تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ مؤرخین کے مطابق وہ بچپن ہی سے انتہائی مہذب اور درباری آداب کا پابند تھا۔ اسے ذہین، بہادر، اور جنگی حکمتِ عملیوں کا ماہر ہی نہیں کہا جاتا بلکہ مذہبی رواداری اور علم پروری میں بھی شجاع کو شہرت حاصل رہی۔ بنگال کے گورنر کے طور پر اس نے تقریباً 20 سال تک نہایت ذمہ داری اور خوبی سے معاملات کو چلایا۔ اس کے دور میں بنگال پرامن اور مستحکم صوبہ بنا۔ اس نے زراعت اور بین الاقوامی تجارت کو فروغ دیا اور بنگال کا دارالحکومت ڈھاکہ سے راج محل منتقل کرکے کئی اہم کام اور کارنامے انجام دیے اور پھر اسے بھی تاج و تخت کی خاطر ہندوستان کے بادشاہ کی طرح الم ناک انجام سے دوچار ہونا پڑا۔
یہاں ہم وحید بنگالی کی کتاب تواریخِ بنگالہ سے اس جنگ کے آغاز اور شہزادہ شجاع کی موت کا مختصر احوال نقل کررہے ہیں جس کے مترجم نشور واحدی ہیں۔ ملاحظہ کیجیے۔
"1657ء کا غمناک سال تھا کہ شاہجہاں سخت بیمار ہو گیا۔ اس کے چاروں لڑکوں نے باپ کے تخت و تاج پر قبضہ کرنے کی جدوجہد شروع کی۔ شاہزادہ شجاع ڈرا کہ اگر اس کا بڑا بھائی دارا شکوہ سلطنت کا مالک ہوا تو اس کی جان کی خیر نہیں۔ لہذا اس نے طے کر لیا کہ جس طرح ہوسکے تختِ خلافت پر قبضہ کر لینا چاہیے۔”
"اس عظیم الشان مقصد تک پہنچنے کے لیے اس کو ہر طرح کی سہولتیں حاصل تھیں۔ رعایا خوش و خرم، خزانہ بے شمار، فوجی طاقت قابلِ اطمینان۔ اب کیا تھا شاہزادہ نے مشہور کر دیا کہ شاہجہاں کا انتقال ہو گیا اور دہلی سے جو خطوط شہنشاہ کی علالت کے متعلق آتے تھے ان کو بھائیوں کی جعل سازی اور فریب کاری قرار دے دیا اور بہت جلد ایک عظیم الشان فوج لے کر بنارس تک پہنچ گیا۔ دارا شکوہ نے اپنے لڑکے سلیمان شکوہ کو سپہ سالار جے سنگھ راجپوت کی نگرانی میں سلطان شجاع کے مقابلہ کے لیے بھیجا۔ اس کی روانگی سے پہلے شاہجہاں نے اس کو اپنے پاس بلا کر اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ جہاں تک ہو سکے دونوں بھائیوں کے درمیان صلح و آشتی کی کوشش کرے۔ جے سنگھ شہنشاہ کی شفقت آمیز ہدایت کے ساتھ بنارس پہنچ گیا۔ ادھر شاہزادہ شجاع دریا پار کرنے کے لیے ایک پل کی تعمیر میں مشغول تھا کہ فوجِ مخالف بھی دریا کے اس کنارہ آکر خیمہ زن ہوئی۔”
"جے سنگھ نے فورا صلح کی بات چیت شروع کر دی اور نہایت مؤثر انداز میں باپ اور بڑے بھائی سے نہ لڑنے کے متعلق نصیحتیں کیں۔ اس کے مخلصانہ انداز سے شجاع بھی متاثر ہوا اور بنگال کی طرف لوٹ جانے کے لیے رضا مند ہو گیا۔ لیکن سلیمان شکوہ کی یہ خواہش تھی کہ کسی نہ کسی طرح جنگ ضرور چھیڑ دی جائے۔ چنانچہ جوانی کے غرور میں جے سنگھ سے مشورہ کیے بغیر رات کے وقت دریا کے پار اتر گیا۔ اور جب کہ شجاع بسترِ خواب میں تھا، اس کی فوج پر اچانک حملہ کر دیا۔ تیر اور تلوار کی کھنک اور آدمیوں کے شور و غل سے شجاع جاگ پڑا اور فورا فیلِ خاصہ پر سوار ہو گیا لیکن اس کے فوجی پریشانی کے عالم میں بھاگ کھڑے ہوئے۔ مجبوراً شاہزادہ کو بھی وہاں سے راہِ فرار اختیار کرنی پڑی۔ پہلے پٹنہ پہنچا، اس کے بعد مونگیر آیا۔ سلیمان شکوہ مونگیر کا محاصرہ کرنا چاہتا تھا کہ دارا شکوہ نے اس کو اورنگزیب اور مراد بخش کی مدافعت کے لیے مع افواج طلب کر لیا۔ اس جنگ میں دارا شکوہ مغلوب ہوا اور شاہجہاں قید کر لیا گیا اور اورنگزیب دہلی کے تخت کا مالک ہو گیا۔”
"شجاع کو بنگال پہنچ کر جب معلوم ہوا کہ تختِ خلافت پر اورنگزیب کا قبضہ ہو گیا ہے تو اس کو بڑی تشویش ہوئی کیونکہ اورنگزیب کے متعلق اس کا خیال تھا کہ وہ بہت بڑا فریب کار اور حیلہ ساز ہے۔ پھر بھی شجاع نے مبارک باد کا خط اُسے لکھا اور ساتھ ہی ساتھ بنگال کی نظامت پر قائم رہنے کی درخواست کی لیکن اورنگزیب نے جواب میں لکھا کہ میں تو صرف پدر بزرگوار کی قائم مقامی کر رہا ہوں اور نئے احکام کے لحاظ سے بنگال کی نظامت تمھارے پاس نہیں رہ سکتی۔ شاہزادہ شجاع ان باتوں کو اچھی طرح سمجھ چکا تھا، وہ اس فریب میں نہ آیا اور اس نے ایک مرتبہ قسمت آزمائی کا فیصلہ کر لیا۔”
"1659ء میں شجاع نے ایک لشکرِ عظیم تیار کر کے ہندوستان کا رخ کیا اور قصبہ کھجوہ میں اورنگزیب کی فوجوں سے اس کا مقابلہ ہوا۔ لڑائی رات ہی سے شروع ہو گئی اور صبح کے وقت زور و شور سے حملہ شروع ہو گیا۔ شجاع کے پاس کوئی تجربہ کار سپہ سالار نہیں تھا پھر بھی اس کی فوج اس بہادری سے لڑی کہ اور نگزیب کے لشکر پر غالب آگئی۔ اسی اثناء میں شجاع کے ہاتھیوں میں سے کوئی ہاتھی اورنگزیب کی سواری کے ہاتھی سے ٹکرا گیا۔ اس وقت ایک عجیب طرح کی لڑائی شروع ہو گئی اور دونوں طرف سے فیصلہ کن حملے ہونے لگے۔”
"جب اورنگزیب کی سواری کا ہاتھی بہت زخمی ہو گیا تو اس نے چاہا کہ اس سے اتر جائے لیکن اس کے سپہ سالار میر جملہ نے پکار کر کہا کہ ہاتھی سے نیچے اترنے کے معنی تخت سے نیچے اترنے کے ہیں۔ اورنگزیب نے یہ سنتے ہی حکم دیا کہ ہاتھی کے پاؤں مضبوط باندھ دیے جائیں تا کہ وہ بھاگ نہ سکے۔ اور لڑائی اسی طرح جاری رہی۔ اتفاقاً شجاع کی سواری کا ہاتھی بگڑ گیا اور فیل بان کے قابو سے باہر ہو گیا۔ یہ ایک نامبارک گھڑی تھی کہ جب شاہزادہ کو ہاتھی سے اتر کر گھوڑے پر سوار ہونا پڑا۔ شجاع کے سپاہیوں نے جب اپنے بادشاہ کو ہاتھی پر نہ دیکھا تو سمجھے کہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ فوراً راہ فرار اختیار کی۔ اگر شجاع کے پاس کوئی ہوشیار سپہ سالار ہوتا تو اُسے یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ مجبوراً وہ بھی بے یارو مددگار پٹنہ ہوتا ہوا مونگیر پہنچا۔ اورنگزیب نے شاہراہ محمد سلطان اور میر جملہ سپہ سالار کو اس کے تعاقب میں بھیجا۔ ان لوگوں نے مونگیر کا محاصرہ کر لیا۔ اس دوران میں شجاع کی فوجیں بھی پہنچ گئیں جس کی وجہ سے محاصرہ طویل ہو گیا۔”
"میر جملہ کو معلوم ہوا کہ ایک دوسرا راستہ شہر گھاٹی سے بنگال کی طرف جاتا ہے تو ادھر بھی ایک فوج روانہ کر دی۔ جب اس فوج کی روانگی کی خبر شجاع نے سنی تو فوراً مونگیر سے اُٹھ کر دارالامارت راج محل کی سمت کوچ کیا۔ چھ دن وہاں مدافعت کے طور پر رہا، جب حالات نامساعد نظر آئے تو رات کی تاریکی میں فوج اور سامانِ جنگ کشتیوں پر بار کر کے ٹانڈہ چلا گیا۔ چونکہ وہ رات ابر و باد کی تھی اور بارش بھی شروع ہوگئی تھی۔ میر جملہ نے افواج کا تعاقب میں بھیجنا مناسب نہیں سمجھا۔ راج محل کے قریب قیام کیا۔ برسات کے موسم کی رکاوٹوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شاہزادہ شجاع نے سامانِ جنگ اور لشکر جمع کرنے کا کام شروع کر دیا اور فرنگی توپ اندازوں کے ایک گروہ کو نوکر رکھ لیا۔ اس طرح وہ پھر کام یابی کے خواب دیکھنے لگا لیکن قدرت نے اس داستان میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔”
"اورنگزیب کا لڑ کا شاہزادہ محمد سلطان بنتِ عم کا شیدائی بنا۔ یعنی شاہزادہ شجاع کی لڑکی کو دیکھ کر فریفتہ ہو گیا تھا۔ اس نے قسمت آزمائی کے لیے اس موقع کو غنیمت جانا اور فوراً اپنے لشکر گاہ سے نکل کر اپنے چچا کے لشکر گاہ میں جا پہنچا۔ یہ خبر وحشت اثر سن کر میر جملہ کے ہوش اُڑ گئے۔ اُس نے فوراً لشکر گاہ کا رُخ کیا کہ ایسا نہ ہو کہ فوج بھی دشمنوں سے جاملے۔ میر جملہ کا خیال اپنی جگہ ٹھیک تھا۔ فوج کے سپاہی لوٹ مار میں اور سازشوں میں مشغول پائے گئے۔ سپہ سالارِ مذکور نے فوج والوں کو سمجھایا کہ شاہزادہ نے بہت بڑی غلطی کی ہے اور عتاب شاہی میں گرفتار ہو جائے گا۔ اس نے اہلِ لشکر کو مطلع کیا کہ صرف برسات کے خاتمہ کا انتظار ہے، شجاع کے مقابلے کے لیے کشتیوں کی فراہمی کا کام اہلِ فوج کو سپرد کر دیا۔ ادھر محمد سلطان کے آنے سے شجاع بہت خوش ہوا۔ اس نے اپنی لڑکی کی شادی محمد سلطان سے کر دی اور شاہی کیمپ میں طبل کی جگہ خوشی کے شادیانے بجنے لگے۔”
"جب بنگال کی برسات اور دریاؤں کا سیلاب کم ہوا تو میر جملہ نے دریا کو عبور کر کے ٹانڈہ پر حملہ کر دیا۔ شجاع خود مقابلہ میں آیا اور شکست کھا گیا۔ نہایت بے سر و سامانی کے ساتھ ڈھاکہ کی طرف بھاگ گیا۔ میر جملہ نے ٹانڈہ کا انتظام کرنے کے بعد ڈھاکہ پر چڑھائی کی۔ شجاع نے بہت کوشش کی لیکن پندرہ سو آدمیوں سے زیادہ وہ اپنے مددگار نہ جمع کر سکا۔ ان حالات کو دیکھ کر وہ بہت مایوس اور شکتہ خاطر ہو گیا۔ اس نے طے کر لیا کہ حج بیت اللہ کو روانہ ہو جائے گا اور بقیہ عمر عبادتِ الہٰی میں بسر کرے گا۔ اس ارادہ سے وہ ہاتھی گھوڑوں پر اپنا سامان و اسباب بار کر کے صرف چالیس خدمت گاروں کے ساتھ براہ پترہ ساحل چاتگام پر پہنچا۔ سوئے اتفاق یہ کہ دیارِ رحمت کی طرف جانے والا کوئی جہاز اس وقت موجود نہ تھا۔ اس کے علاوہ موسم بھی ناموافق تھا جس کی وجہ سے جہازوں کی آمد و رفت کم تھی۔”
"دشمن کو تعاقب میں دیکھ کر شجاع نے والیِ ارخنگ سے پناہ مانگی۔ اس سلسلہ میں اپنا ایک قاصد راجہ کے پاس بھیجا۔ راجہ نے کافی ہمدردی اور خلوص کا اظہار کیا اور ارخنگ میں شاہزادوں کے لیے ایک اچھا مکان تجویز کیا کہ مع اہل و عیال آرام سے رہ سکے اور ہر طرح کی مہمان نوازی اور مدارت کے سامان مہیا کر دیے۔ کچھ دنوں کے بعد راجہ کے سلوک میں فرق آنے لگا اور بے مروتی سے گزر کر بد ذاتی تک نوبت پہنچی۔ راجہ نے اپنے حدود سے آگے قدم بڑھا کر شاہزادہ شجاع کی لڑکی کے لیے پیغام بھیجا اور خود اس سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ شجاع کو اس کی یہ مجنونانہ باتیں نہایت ناگوار گزریں اور تلخ جواب اس کے ہاں کہلا بھیجا کہ ایک کافر بے دین کے ساتھ "سرا پردۂ عصمت بادشاہی” کی مخدرات کا کوئی رشتہ نہیں ہو سکتا۔ اس نے یہ سن کر ایک فوج شاہزادہ کے سر پر بھیج دی۔ شجاع نے زندگی کے ان آخری انفاس میں بڑی بہادری سے کام لیا اور شجاعت کی داد دی۔ شاہزادہ کے بہت سے مددگار مارے گئے اور آخر میں شجاع بھی ایک شدید پتھر کی چوٹ سے بے ہوش ہو گیا جو اس کے اوپر قصداً لڑھکایا گیا تھا۔ دشمنوں نے شاہزادہ کے جسم سے ہتھیار کھول لیے اور اس کے ہاتھ اور پاؤں مضبوط باندھ کر ایک چھوٹی کشتی پر ڈال دیا اور اس کے نیچے کی میخیں اکھیڑ کر کشتی کو وسطِ دریا میں ڈال دیا اور کشتی تہِ آب ہو گئی۔ اس طرح دشمنوں کی غداری سے شاہزادہ کی جان و مال اور اہل و عیال پر قیامت گزر گئی۔ شجاع کے غریقِ رحمت ہو جانے کے بعد بد باطن راجہ پیاری بانو بیگم کو دیکھنے آیا جو حسن و جمال میں شہرۂ آفاق تھیں، مگر بیگم موصوف نے غیرت کی وجہ سے اپنے سینے میں خنجر پیوست کر لیا اور جان، جانِ آفریں کے سپرد کی۔ شجاع کی دونوں لڑکیوں نے بھی خود کشی کر لی۔ شجاع کی تیسری لڑکی جو بہت کم عمر تھی، زبردستی راجہ کے عقد میں لائی گئی، مگر اس نے بھی بہت جلد دنیا کو خیر باد کہا۔ شجاع کے دونوں لڑکوں کو دشمنوں نے دریا میں ڈبو دیا۔ اس طرح بنگال کے محبوب ترین فرماں روا اور ہر دل عزیز بادشاہ کا مع اہل و عیال کے صفحۂ ہستی سے نام و نشان مٹ گیا۔”
"جب اس حادثہ جانکاہ کی خبر شاہجہاں کو پہنچی (جوان دنوں زندانِ ستم میں بد نصیبی کے دن کاٹ رہا تھا) تو اس نے ان لفظوں میں افسوس ظاہر کیا کہ ‘افسوس اس کافر ملعون نے شجاع کے لڑکوں میں سے کسی کو زندہ نہیں چھوڑا جو اپنے دادا کا انصاف طلب کرتا۔’…”


