سلطان شہاب الدین غوری کو برصغیر میں ایک فاتح اور عظیم حکم راں کے طور پر شہرت ملی اور آج ان کا نام تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے۔ شہاب الدین غوری 15 مارچ 1206ء کو انتقال کرگئے تھے۔ آج سلطان کی برسی ہے۔
تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ شہاب الدین شروع سے ہی معرکہ آرائی کا شیدائی تھے۔ سلطان محمد غوری موجودہ مغربی وسطی افغانستان کے علاقے غور کے حکم راں کے گھر پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایک جنگجو کے طور پر مشہور ہوئے اور انھوں نے اپنے بھائی غیاث الدین محمد کی وفات کے بعد "سلطان الاعظم” کا لقب اختیار کرکے سلطنت سنبھالی تھی۔ ان کو گویا ہر وقت شمشیر زنی کے جوہر دکھانے کو ایک نیا ہدف چاہیے تھا۔ 1173ء میں شہاب الدین غوری نے افغانستان کے ایک اہم شہر اور جنگی مرکز غزنی پر قبضہ کر لیا جس سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہو گیا۔ یہ وہ وقت تھا کہ غزنوی سلطنت آخری ہچکیاں لے رہی تھی اور غوری خاندان کے اقتدار کا سورج طلوع ہو رہا تھا۔ شہاب الدین کا بڑا بھائی غور کا حکم راں تھا اور شہاب الدین کو غزنی کا گورنر مقرر کیا تھا۔ اسی زمانہ میں سلطان شہاب الدین نے ہندوستان پر قبضے کا خواب دیکھا۔ ہندوستان میں داخل ہونے کے لیے سلطان نے درۂ گومل کا انتخاب کیا۔ ان کا پہلا بڑا ہدف ملتان تھا جو اس وقت ایک خوش حال علاقہ تھا۔ شہاب الدین کی فوج نے ملتان کو فتح کر لیا۔ اور پھر اُچ جو اس زمانے میں طاقت کا اہم مرکز تھا، اسے بھی تسخیر کرنے میں کام یاب رہی۔ اُچ کی فتح کے بعد شہاب الدین کا اعتماد بڑھ گیا تھا۔ سلطان نے 1173ء سے 1206ء تک اپنی فتوحات سے غوری سلطنت کو مشرق کی طرف پھیلایا۔ کہا جاتا ہے کہ بعد میں ان کا لشکر تھر کے لق و دق صحرا کو عبور کر کے گجرات پہنچا جو اس دور میں ہندوستان کی ایک خوشحال ریاست تھی۔ کبھی اس علاقہ کو غزنی کے محمود غزنوی نے تسخیر کیا تھا اور پھر ان کا دور تمام ہوا تو شہاب الدین غوری کے قدم وہاں پہنچے۔ اس دور میں گجرات کا حکمران ایک کم سن ہندو راجہ مُل راج دوم تھا اور امورِ سلطنت اور سپاہ اس کم سن راجہ کی ماں کے تابع تھے۔ اس کا نام مؤرخین نیکی دیوی لکھتے ہیں۔ شہاب الدین غوری اور نیکی دیوی کی فوجوں میں گھمسان کا رن پڑا اور اس جنگ میں شہاب الدین کی فوج کو پسپا ہونا پڑا۔ یہ شہاب الدین غوری کے لیے غیر متوقع شکست تھی، اور اںھوں نے ہار ماننے کے بجائے حکمتِ عملی کے تحت اپنا رخ پنجاب کے اہم شہر لاہور کی طرف کر دیا۔ وہاں غزنوی کے ایک گورنر خسرو ملک کا سکّہ چلتا تھا۔ یہ سنہ 1187ء کی بات ہے کہ شہاب الدین غوری کے لشکر کے سامنے خسرو ملک نے وفاداری کا حلف اٹھا لیا اور لاہور پر سلطان کا قبضہ ہوگیا۔ سلطان نے خسرو ملک کا منصب بحال کردیا اور سندھ کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے دیبل کو فتح کر لیا۔ مختصر مدت میں لاہور، پشاور اور سیالکوٹ کے علاقے شہاب الدین غوری کے زیر نگیں آچکے تھے۔ 1190ء تک شہاب الدین غوری کی فتوحات نے ان کی سلطنت کو وسعت دی۔ اب ان کی اگلی منزل بٹھنڈہ کا قلعہ تھا جس پر قبضہ کرلیا گیا۔ دہلی پر اس وقت پرتھوی چوہان خاندان کا راج تھا۔ وہ بٹھنڈہ پر شہاب الدین کا قبضہ قبول کرنے کو تیار نہ ہوئے اور راجہ نے شہاب الدین غوری کے لشکر کی پیش قدمی کو روکنے کا فیصلہ کیا۔ محققین کے مطابق 1191ء ان کی فوجیں ترائن کے مقام پر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہوئیں۔ اس جنگ میں شہاب الدین غوری بھی اپنی تلوار زنی کے جوہر دکھا رہا تھے کہ دشمن کے حملے میں شدید زخمی ہوگئے، مگر سپاہیوں نے انھیں کسی طرح خیمے تک پہنچا دیا۔ اور وہاں سے واپس غزنی لے آئے۔ شہاب الدین کو صحت مند ہونے میں کچھ دن لگے لیکن ترائن کی شکست نے انھیں بے چین کردیا تھا۔ انھوں نے دوبارہ جنگ کی تیاری شروع کردی۔ لیکن سپاہ سالار اور وزیروں نے بتا دیا تھا کہ سلطان عددی اعتبار سے پرتھوی کے لشکر کے سامنے کم ہیں۔ جنگ میں کام یابی کی واحد صورت بہتر حکمتِ عملی اور بھرپور حملہ ہوسکتا تھا۔ 1192ء میں شہاب الدین غوری اپنی ایک لاکھ فوج کے ہمراہ ترائن کے میدان میں پہنچے۔ ایک مرتبہ پھر دونوں لشکروں میں جنگ ہوئی اور پرتھوی کا لشکر شکست کھا گیا۔ یوں شہاب الدین غوری ہندوستان پر قبضہ کرنے میں کام یاب ہوئے۔ برصغیر میں انہی کی فتوحات کے بعد دہلی سلطنت کا راستہ ہموار ہوسک تھا۔
1204ء میں شہاب الدین غوری کو محمد خوارزم کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا اور پھر 1206ء میں پنجاب میں کھوکھروں نے علمِ بغاوت بلند کر دیا۔ سلطان مسلسل جنگیں لڑنے اور بغاوتوں کا راستہ روکنے میں مصروف رہے اور کھوکھروں کی بغاوت کا سر کچل دیا۔ محققین نے لکھا ہے کہ سلطان کو ایک موقع پر ہندوستان سے واپسی پر دھمیک کے مقام پر حملہ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔ شہاب الدین غوری کا مقبرہ ضلع جہلم سے اندر دھمیک میں واقع ہے۔ شہاب الدین محمد غوری کی شہادت کے ساتھ غوری خاندان کی حکومت بھی ختم ہو گئی۔ ہرات اور غزنی کے علاقوں پر خوارزم شاہ کی حکومت قائم ہو گئی اور برصغیر پاک و ہند میں محمد غوری کے وفادار غلام اور دہلی میں سلطان کے نائب قطب الدین ایبک نے ایک مستقل اسلامی حکومت یعنی سلطنتِ دہلی کو خاندانِ غلاماں کے زیرِ اثر قائم کیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


