The news is by your side.

Advertisement

قومی اسمبلی: بجٹ سیشن کے تیسرے روز بھی شدید شور شرابا، شہباز شریف تقریر مکمل نہ کرسکے

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن کے تیسرے روز بھی شدید شور شرابا اور ہنگامہ ہوا، شہبازشریف اپنی تقریر مکمل نہیں کرسکے۔

تفصیلات کے مطابق شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے ارکان کے نعروں کے درمیان تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ نوازشریف اور ان کی ٹیم نے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا، مشرف کے زمانے میں شدید لوڈشیڈنگ ہوتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف اور  ان کی ٹیم نے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا، نواز شریف کے دور میں 11 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہوئی، جی ڈی پی3.3 فیصد پر تھا، پانچ برس میں ہم نےمعیشت کو بہترکیا. ہم مہنگائی کی شرح 12 فی صد سے 3 پر لے کر آئے، تعلیم اور علاج معالجے کے نظام میں ہم انقلاب لے کر آئے.

ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے بجٹ کی دعوت دیے جانے پر  اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے کہا کہ آپ نے کل میرے دروغ گوئی کے لفظ کو حذف کرکےغلط کیا، دروغ گوئی ایسا جملہ نہیں، جسے حذف کیا جائے.

ارکان اسمبلی نے گزشتہ دونوں‌ کے مانند آج بھی شدید نعرے بازی اور احتجاج کیا، جس پر ڈپٹی اسپیکر نے برہمی کا اظہار کیا اور ایوان کی کارروائی میں رخنہ نہ ڈالنے کی ہدایت کی،  اس دوران پی پی پی ارکان آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈرز کے لئے احتجاج کرتے رہے.

مزید پڑھیں: شہباز شریف کی سربراہی میں وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، اے پی سی پر مشاورت

شہباز شریف کی تقریر کے دوران ارکان اسمبلی نے نعرے بازی جاری رکھی. ڈپٹی اسپیکرقاسم سوری نے اسمبلی قاعدہ 30 کی کاپی ایوان میں لہراتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی اس رول کی خلاف نہ کرے، یہ رول آپ ارکان کا بنایا ہوا ہے، عمل بھی آپ ہی کو کرنا ہے.

شہباز شریف کی تقریر کے دوران ن لیگی ارکان نے اپوزیشن لیڈر کے گرد گھیرا ڈال لیا، اس دوران حکومتی ارکان نعرے لگاتے رہے کہ آپ کی حکومت نے ملکی معیشت کابیڑا غرق کر دیا ہے.

جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے: فواد چوہدری


ایوان میں تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیر  فواد چوہدری نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھ لیا۔

انھوں نے کہا کہ اپوزیشن جیساکرےگی، حکومت بھی ویساہی کرےگی، تالی دونوں ہاتھوں سےبجتی ہے۔ایسانہیں ہوگاکہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اورکڑواکڑوا تھو تھو۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں