The news is by your side.

Advertisement

شہباز شریف کے برطانوی اخبار اور صحافی کیخلاف دائر ہتک عزت کیس کی سماعت

لندن: برطانوی عدالت نے شہبازشریف کی جانب سے صحافی کے خلاف دائر ہتک عزت مقدمے کی ابتدائی سماعت ہوئی۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق شہبازشریف کے ڈیوڈروز اور برطانوی اخبارپر دائر کے جانے والے ہتک عزت مقدمے کی لندن میں کوئنز بینچ نے سماعت کی۔

بینج کے جج جسٹس نکلین نے فیصلہ جاری کیا جس میں کہاگیا ہے کہ ’اخبار میں شائع ہونے والے مضمون میں استعمال ہونے والے الفاظ شہباز شریف کی ہتک عزت کا باعث تھے، ڈیلی میل کو شہبازشریف پر عائد کیے گئے الزامات ثابت کرنا ہوں گے‘۔

عدالت نے کہا کہ ’صحافی ڈیوڈروزکےمضمون کا مرکز شہبازشریف تھے، مضمون میں لگائےگئے الزامات واضح ہیں کیونکہ آرٹیکل میں واضح طور پر شہبازشریف اورعمران علی کو چوری کی رقم کابینفشری لکھاگیا اور یہ بھی تحریر کیا گیا کہ متاثرین میں برطانوی ٹیکس دہندگان شامل ہیں جبکہ مضمون میں سرکاری منصوبوں میں کرپشن اورکک بیکس کا ذکر بھی کیا گیا ہے‘۔

مزید پڑھیں: شہباز شریف نے برطانوی اخبار پر ہتک عزت کا مقدمہ کر دیا

جسٹس نکلین کا کہنا تھا کہ ’آرٹیکل میں کہا گیا عمران علی بھی کک بیکس،کرپشن سےمستفیدہوئے جبکہ شہبازشریف کو یوکے ڈی ایف آئی ڈی کا پوسٹربوائے لکھا گیا‘۔

عدالت نے آج ہونے والی سماعت پر فیصلہ جاری کیا جس میں لکھا گیا ہے کہ اخبارمیں لگائےگئےالزامات درست تھے یا غلط،اس بات کا فیصلہ ٹرائل میں ہوگا۔ سماعت کےدوران مضمون میں استعمال الفاظ کے معانی پربحث بھی ہوئی۔

دوران سماعت ثابت ہوا کہ مضمون میں شہبازشریف اور عمر علی سے متعلق ہتک آمیز الفاظوں کا استعمال کیا گیا جس کی بنیاد پر  جج نےہتک عزت کے معیارکا تعین بھی کیا اور  بتایا کہ ہتک عزت درجہ اول کا مطلب الزامات شدید نوعیت کے ہیں۔

سماعت میں اس بات کا تعین کیا گیا کہ ڈیوڈ روز کی خبر میں درج کئے گئے الفاظ ہتک عزت کا باعث بن سکتے ہیں یا نہیں اور کس درجے تک سنگین الفاظ کا استعمال کیا گیا۔ عدالت نے فیصلہ کیا کہ الفاظ ہتک عزت کا باعث بن سکتے ہیں اور اسے درجہ اوّل یعنی سنگین ہتک عزت کے درجے میں رکھا۔ تاہم یہ ہرگز اس بات کا فیصلہ نہیں کہ اخبار میں درج الزامات درست ہیں یا غلط ہیں۔

اس بات کا فیصلہ ٹرائل میں ہو گا اور اگر ڈیلی میل نے یہ ثابت کر دیا کہ الزامات درست تھے تو ہتک عزت کا دعوٰی خارج کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب  ڈیوڈ روز نے ٹویٹ کے ذریعے تردید کی اور لکھا “آج کا فیصلہ مقدمے کا حتمی نتیجہ نہیں، کچھ پاکستانی چینلز کی خبروں کے برخلاف آج کی سماعت ابتدائی تھی،  آج کا فیصلہ ٹرائل کی حدود کا تعین کرتا ہے، مقدمے کا ٹرائل ہونا ابھی باقی ہے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں