اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا
The news is by your side.

Advertisement

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا

لاہور : اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا، جیل حکام کا کہنا ہے کہ آصف زرداری جس سیل میں بند تھے، شہباز شریف کو اسی میں رکھا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈرشہبازشریف کوکوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا ہے، شہباز شریف کو پہلے کیمپ جیل بعد میں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیاگیا، جیل کےاندراورباہراضافی سیکیورٹی تعینات کردی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جیل قوانین کےمطابق شہبازشریف کی ملاقات اہل خانہ سے ہوسکتی ہے، جیل میں اپوزیشن لیڈرکو خصوصی سیل میں رکھا جائے گا، آصف زرداری جس سیل میں بند تھے، شہبازشریف کو اسی میں رکھا جائے گا۔

خیال رہے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کیس میں احتساب عدالت نے شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا اور نیب کی جانب سے مزید ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی تھی۔

مزید پڑھیں : آشیانہ اسکینڈل کیس، شہبازشریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا حکم

نیب کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے ملازم کی جانب سے دونوں اکاونٹس میں ڈالی گئیں رقوم مشکوک ہیں،ملک مقصود نے اپنا جو پتہ لکھوایا وہ شہباز شریف کا ایڈریس ہے۔

دوسری جانب نیب نے تفتیشی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف بیٹوں کوتحائف کی مدمیں 17 کروڑ کے ذرائع آمدن نہ بتا سکے، اکاؤنٹ میں 2011 سے 2017 کے دوران 14 کروڑ آئے، مسرور انور اور مزمل رضا متعدد بارشریف فیملی کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرتے رہے۔

واضح رہے نیب لاہور نے5 اکتوبر کو شہبازشریف کو صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا تاہم ان کی پیشی پر انہیں آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں کرپشن کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

اگلے روز شہبازشریف کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں انہیں 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پرنیب کے حوالے کردیا گیا تھا۔

جس کے بعد 16 اکتوبر کو ریمانڈ ختم ہونے پر پیش کیا گیا تو احتساب عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کیس میں گرفتار مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ میں 30 اکتوبرتک توسیع کردی تھی۔

ریمانڈ ختم ہونے پر شہبازشریف کو 29 اکتوبر کو عدالت میں پیش کیا گیا تو (نیب) نے آشیانہ اسکینڈل کیس کے ملزم اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے مزید 15 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی ، جس پر عدالت نے ان کے ریمانڈ میں مزید توسیع کردی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں